اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 361 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 361

361 تھا۔ان تحریروں سے میرا مدعا یہ تھا کہ عوض معاوضہ کی صورت دیکھ کر مسلمانوں کا جوش رک جائے۔سوا گرچہ ان حکمت عملی کی تحریروں سے مسلمانوں کو فائدہ تو ہوا اور وہ ایسے رنگ کا 66 جواب پا کر ٹھنڈے ہو گئے لیکن مشکل یہ ہے کہ اب بھی آئے دن پادری صاحبوں کی طرف سے ایسی تحریر میں نکلتی رہتی ہیں جو و درنج اور تیر طبع مسلمان ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔“ ضمیمہ رسالہ جہادروحانی خزائن جلد 17 صفحہ 30-31) یہ وہ چند نمونے ہیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کئے گئے ہیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توہین رسالت کرنے والوں کا پیچھا کیا اور انہیں ہر میدان میں شکست دی۔اگر دیکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک ایک کتاب اسلام کے دفاع میں لکھ گئی ہے۔اور آپ نے اپنی زندگی میں کوئی بھی ایسا موقعہ ہاتھ سے نہیں دیا کہ اسلام اور قرآن اور آنحضرت صلم کی شان پر کسی نے حملہ کیا ہو تو آپ نے اس کا جواب نہ دیا ہو۔تو بین رسالت کرنے والوں سے آپ کے دل میں کس قدر دکھ اور درد پیدا ہوتا تھا اس کو اندازہ کرنے کے لئے یہاں صرف دو اقتباس درج کرتا ہوں۔ایک مقام پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ہندوستان اور پنجاب میں کم سے کم 45 برس سے یہ اعتدالیاں شروع ہیں۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء وسيد المطهرين افضل الاولین و الآخرین محمد مصطفی بھی نا اہلی کو اس قدر گالیاں دی گئی ہیں اور اس قدر قرآن کریم کو بیجا ٹھٹھے اور میں تعلیم ہنسی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ دنیا میں کسی ذلیل سے ذلیل انسان کے لئے بھی کسی شخص نے یہ لفظ استعمال نہیں کئے۔یہ کتا ہیں کچھا ایک دو نہیں بلکہ ہزار ہا تک نوبت پہنچ گئی ہے اور جو شخص ان کتابوں کے مضمون پر علم رکھ کر اللہ جلشانہ اور اس کے رسول پاک کے لئے کچھے بھی غیرت نہیں