اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 322
322 حوالوں سے بات کو بیان کیا ہے اگر چہ نتیجہ ان تعلیمات اور احکامات کے خلاف نکالا ہے جیسا کہ ثابت کیا جا چکا ہے۔باقی کی ساری کتاب ہی انہیں بیان کردہ واقعات کے گرد گھومتی ہے۔کبھی ذقی کی بات کو بیان کر کے اس پر بحث کی گئی ہے تو کہیں منافق کی بحث کو اٹھایا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ منافق کی سزا قتل ہے۔کبھی زندیق کا ذکر کر کے اسے قتل کرنے کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی ہے لیکن قرآن وسنت وحدیث سے ایک بھی دلیل پیش نہیں کی گئی۔اور اگر کسی جگہ کوئی دلیل پیش کی بھی ہے تو وہی آیات اور احادیث اور واقعات دہرا دئے گئے ہیں جن کو بیان کیا جا چکا ہے۔کوئی ایک بھی نئی دلیل پیش نہیں کی گئی۔خلاصہ کلام یہ کہ کتاب کے شروع میں جن چار مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا تھا ان پر سیر حاصل تفصیل پیش کی گئی ہے۔اور جو بھی ان مسائل سے توہین رسالت کی سز اقتل کے قائل ہیں قرآن کریم سنت و حدیث ان کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ قرآن سنت و حدیث ایسے مجرموں کو سزاد بینا اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے کہ اللہ ہی ان کو سزاد یگا کسی بندے کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ ازخود کھڑا ہو کر شاتم رسول یا تو بین رسالت کرنے والے کو قتل کرنا شروع کر دے۔پس یہی حقیقی اسلامی تعلیم ہے جس پر خو درسول مقبول صلیم نے عمل کر کے لوگوں کے لئے اسوہ حسنہ چھوڑا ہے۔اسی طرح یہ بحث بھی بار بار اٹھائی گئی ہے کہ اگر کسی مسلمان نے ایسی گستائی کی ہو تو وہ مرتد کہلائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے لیکن پوری بحث میں ایک بھی قرآن وحدیث سے دلیل نہیں پیش کی گئی۔اول تو مسلمان ایسا فعل کر ہی نہیں سکتا لیکن اگر کوئی اپنے ارتدا کو اعلان کر بھی دے تب بھی اسلام اسے قتل کی سزا نہیں دیتا اس پر بھی تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔فتویٰ جاری کرنا ایک بات ہے لیکن اس کے لئے قرآن کریم سے دلیل پیش کرنا یہ اور بات ہے۔اور اسلام کی بنیا دفتوؤں پر نہیں بلکہ قرآن کریم کی شریعت پر ہے۔