اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 321
321 کریم عالم کا اسوہ ان لوگوں کے سامنے تھا۔اور صحابہ رسول قرآن کریم کے حوالہ سے اس بات سے پوری طرح واقف ہو چکے تھے کہ یہ سلسلہ ہر نبی کے دور میں چلا ہے اور کسی نبی نے بھی ایسی ہجو کرنے والوں کے قتل کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم موجود ہے۔اس سلسلہ میں ایک دلیل گزشتہ صفحات میں پیش کی جا چکی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر کے ساتھ گستاخی کی تو ایک صحابی نے حضرت ابوبکر صدیق سے اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے منع فرما دیا۔اور فرمایا کہ ایسا حق صرف رسول کریم علی ایم کو تھا ان کے بعد کسی کو یہ حق نہیں۔اس پر لمبی بحث پیچھے گزری ہے اسے دہرانا نہیں چاہتا۔اس سلسلہ میں صرف اس قدر درج کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ جس بات کی دلیل قرآن کریم سے پیش نہ کی جاسکتی ہو سنت نبوی صلیم میں جس پر عمل دکھائی نہ دیتا ہو اور احادیث میں بھی جس کی شہادت موجود نہ ہو اس کے بالمقابل اگر کو شخص ہزار دلیل بھی پیش کرے وہ قابل قبول نہیں ہو سکتی ایسے تمام لوگ جو اسلام میں تو بین رسالت کی سز اقتل کے حق میں ہیں ان کے پاس کوئی ایک بھی دلیل موجود نہیں جو وہ قرآن کریم سے پیش کر سکیں جو وہ سنت نبوی ملا لیں اور اسوہ رسول علی ایم سے پیش کر سکیں کہ محض ہجو گوئی اور توہین رسالت کرنے کی بنا پر کسی کو قتل کرنے کا حکم ہو یا رسول کریم بلی نے محض اس بنا پر کسی کوقتل کروادیا ہو۔البتہ جن لوگوں کو بھی قتل کرنے کا آنحضرت علی علیم نے حکم دیا اس کی وجہ ان کے دیگر سنگین قسم کے جرائم تھے جن جرائم کی سزا آج بھی قتل ہی بیان کی جاتی ہے ہاں ان سنگین جرائم کے ساتھ ساتھ وہ تو بین رسالت بھی کرتے تھے اور بجو گوئی بھی کرتے تھے لیکن سزا اس جرم کی نہیں دی گئی اور اسلام نہ ہی ایسے جرائم کی سز اقتل کا حکم دیتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ کتاب کے مصنف نے شروع میں تو قرآن وحدیث کے