اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 274 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 274

274 کام کئے جا رہے تھی وہ ان کی سمجھ سے باہر تھے۔در اصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ سفر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطف علی ایم کے ساتھ تھا ( جسے بعض مفسرین حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔) اس میں دراصل حضرت محمد مصطفی علم کی اعلی اور ارفع شان اور تعلق باللہ وصبر استقامت کو بیان کیا گیا ہے۔اب دیکھیں یتیم بچوں کی کشتی کا توڑنا، ایک بچے کو قتل کر دینا ، ایک گرتی ہوئی دیوار کو بنا اجرت لئے کھڑا کر دینا بظاہر یہ باتیں زیادتی اور ظلم اور بے فائدہ دکھائی دیتی ہیں۔جب آپ مالی نے ان کے رازوں سے پردہ اٹھایا تو پھر بات سمجھ میں آئی تب معلوم ہوا کہ یہ سب کام تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کئے جارہے تھے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت محمد مصطف عالی و بی حکم صادر فرماتے تھے اس میں بہت سے راز پوشیدہ ہوتے تھے اور ان لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے تھے جو دنیا کی آنکھ رکھتے تھے۔پس یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آپ کوئی بھی بات اپنی طرف سے نہ کرتے تھے اور نہ ہی کوئی حکم اپنی طرف سے دیتے تھے بلکہ وہی کرتے اور کہتے تھے جس کا اللہ آپ کو حکم کرتا تھے۔پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول بالکل سچا اور حقیقت پر مبنی ہے کہ حضرت محمد مصطف علی میم کے بعد کسی کی تو ہین پر اس کو قتل کر دینے کا حکم دینے کا حق کسی کو نہیں۔یہ بہت قابل غور بات ہے۔پس اس روایت سے یہ قطعاً ثابت نہیں ہوتا کہ توہین رسالت کہ سزا اسلام میں قتل مقرر کی گئی ہے۔آنحضرت لالا لیلی نے جن لوگوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایا ان کی ظاہری وجوہات کے علاوہ کیا کیا پوشیدہ راز تھے یہ تو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے تھے ہمیں خود سے کوئی نتیجہ نہیں نکال لینا چاہئے۔