اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 275
275 ۷۔امام ابن تیمیہ نے انس بن تریم الدیلی کا واقعہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ واقدی نے بطریق عبداللہ بن عمرو بن ر ہیر انجن بن وہب ذکر کیا ہے(المغازی للواقدی ۲۸۲/۲-۲۸۹) بحوالہ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۶۹، کہ آخری واقعہ جو خزاعہ اور کنانہ کے مابین پیش آیا وہ یہ ہے کہ انس بن زنیم الدیلی نے رسول اکرم یام کی بجو کہی۔قبیلہ خزاعہ کے ایک لڑکے نے سُن لیا، اس نے انس پر حملہ کر دیا اور اس کے سر پر چوٹ ماری۔وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور ان کو اپنا زخم دکھایا، فتنہ بازی کا آغاز ہوا۔بنوبکر پہلے ہی خزاعہ سے اپنے خون کا مطالبہ کر رہے تھے۔واقدی نے بطریق حرام بن ہشام بن خالد الکعبی اپنے والد سے روایت کی ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں میں رسول کریم علیم سے مدد طلب کرنے کے لئے نکلا۔انہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو ان کو پیش آیا تھا اور اس قصیدے کا بھی ذکر کیا جس کا پہلا مصرعی یہ ہے اللهم انى ناشد محمداً جب قافلے والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ انس بن کر نیم الدیلی نے آپ کی ہجو کہی ہے۔رسول کریم علیم نے اس کے خون کو صدر قرار دیا۔جب انس بن ژ نیم کو پتہ چلا تو وہ معذرت طلبی کے لئے رسول کریم علی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس نے رسول کریم عالم کی شان میں مدحیہ قصیدہ کہا اور آپ کو سنایا۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۶۹) اسی واقعہ کو پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی نے بھی اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔اس واقعہ کے ضمن میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کو واقدی بیان کر رہا ہے اور اس کی کوئی سند