اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 273
273 دیکھا جائے تو امام ابن تیمیہ نے اس جگہ بہت اہم نقطہ بیان فرمایا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جو ہر قسم کے شک وشبہات کو دور کرتا ہے۔اور آنحضرت میام کے کسی حکم اور عمل پر بھی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔کیونکہ آپ مالی مایلی کا ایک عمل بھی ایسا نہیں تھا جو اذنِ الہی کے خلاف ہو جیسا کہ لکھا ” آپ اسی بات کا حکم دیتے جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا ہو یہی وہ بات ہے جسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان کرتا ہے۔فرمایا وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ الا وحى توخى (النجم آیت ۴۱۳) یعنی۔اور یہ اپنی خواہش کے مطابق کچھ نہیں بولتا مگر وہی ( کہتا ہے ) جواس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔قرآن کریم کی یہ آیات اس بات کی شہادت پیش کرتی ہیں کہ آنحضرت صلے یہ کوئی بات ایسی نہیں کرتے تھے اور کسی بات کا حکم نہیں دیتے تھے مگر یہ کہ اس کے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔یہ بات بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اس روایت میں جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ رسول کریم ملا لینے کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں اس سے مراد ہی یہ ہے کہ ایسے حکم صادر فرمانا یہ صرف رسول کریم اللہ ہی کا حق تھا کسی اور کا نہیں اس کی وجہ ہی تھی کہ آپ بی این ایام کا ہر حکم اذن خداوندی اور ارادہ نے خداوندی سے ہوتا تھا اس کا راز اور اس کا مقصد خواہ کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ہاں اس کی پوشیدہ رازوں کو اللہ اور اس کا رسول اچھی طرح جانتے تھے۔اس کی مثال سورۃ الکہف کے اس واقعہ سے دی جاسکتی ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک اللہ کے بندے کے ساتھ سفر کیا تھا اور اس سفر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ میرے کسی بھی کام پر کوئی سوال نہیں کرو گے جب تک کہ میں خود سے نہ بتاؤں لیکن آپ بار بار سوال کرتے تھے کیونکہ ان کے سامنے جو