اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 272
272 عبداللہ بن قدامہ نے ابوبرزہ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابو بکرؓ کو برا بھلا کہا، میں نے کہا کیا میں اسے قتل کر دوں ؟ انہوں نے مجھے ڈانٹ کر کہا کہ رسول کریم السلام کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں ( سنن النسائی ۱۰۹/۷ بحوالہ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۱۵۵) اس روایت کو پیش کر کے اس سے یہ دلیل دی گئی ہے کہ علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث سے استدلال کیا کہ رسول کریم علیم کو گالی دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے۔‘اسی طرح لکھا ہے کہ ”رسول کریم علی سلیم کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنے گالی دینے والے کو قتل کر سکتے تھے۔آپ ہ ان ہی کو چھی بھی حاصل تھا کہ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیتے جس کے بارے میں لوگوں کو کچھ علم ہو کہ اسے کیوں قتل کیا جارہا ہے۔اس معاملہ میں لوگوں کو آپ کی اطاعت کرنا چاہئے نہ 66 اس لئے کہ آپ اس بات کا حکم دیتے ہیں جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا ہو۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۵۶) اس روایت کو پیش کر کے جو نتیجہ نکالا گیا ہے وہ درست دکھائی نہیں دیتا۔بات صرف یہ کہی گئی ہے کہ انہوں نے مجھے ڈانٹ کر کہا کہ رسول کریم علیم کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں“ اس بات سے صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی کے قتل کرنے کا فیصلہ لینا یہ حق صرف رسول کریم سلامی و حاصل تھا آپ کے بعد ایسا فیصلہ لینے کا حق کسی کو نہیں۔اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں نکلتا اگر کوئی کسی بھی معزز شخص کو برا بھلا کہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ہاں اگر وہ رسول کریم کو برا بھلا کہے تو اسے قتل کر دیا جائے آیات تو بڑی صاف بیان کی گئی ہے لیکن نتیجہ غلط نکالا گیا ہے۔