اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 267
267 سے تعلق نہیں رکھتے تو یہ کیا وجہ ہے کہ ان تینوں واقعات میں ایک سی مشابہات کیوں ہیں۔؟ مثلاً ا۔پہلے دونوں واقعات میں نا بینا شخص کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔اور اس واقعہ میں واقدمی کہتا ہے کہ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹولا آنکھ والے کو تو دکھائی دیتا ہے اسے ٹٹولنے کی کیا ضرورت تھی اس لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے عمیر کہا گیا ہے وہ بھی دراصل وہی نابینا شخص ہے جس کا ذکر پہلی روایات میں ہو چکا ہے۔۲۔دوسری بات یہ ہے کہ دوسری روایت میں یہ آیا ہے کہ اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور اس میں بھی بچے کا ذکر ہے کہ اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ایک بچہ اس کے سینے کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔“۔تیسری بات یہ ہے کہ اس عورت کو قتل کرنے کا طریق واردات دوسری اور تیسری روایت میں ایک سابیان ہوا ہے تیسری روایت میں آیا ہے کہ اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کی پشت کے پار کر دیا۔دوسری روایت میں ہے کہ میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دباد یا حتی کہ وہ مرگئی اس دوسری روایت میں بھالے کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ ”مغول‘ ہے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ خطابی کہتے ہیں کہ مغول ایک بھالا ہوتا ہے جس کا پھل بڑا باریک ہوتا ہے۔دیگر اہل علم نے بھی اسی طرح کہا ہے کہ وہ ایک تیز تلوار ہوتی ہے جس کا ایک دستہ ہوتا ہے اور اس کا غلاف چابک کی طرح ہوتا ہے۔" مشمل " چھوٹی تلوار کو کہتے ہیں۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آدمی اس کو چھپائے رکھتا ہے، یعنی کپڑے سے اسے ڈھانپ دیتا ہے۔”مغول“ کا مادہ ممال“ اور اغسال“ ہے جس کے معنی اچانک کسی چیز کو پکڑ لینے کے ہیں۔“