اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 266 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 266

266 لم کی ہجو کرنے کے نتیجہ میں قتل کیا گیا تھا غلط ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ واقدی ہی لکھتا ہے کہ اس عورت کا جرم یہ بھی تھا کہ یہ اسلام میں عیب نکالتی تھی ، آنحضرت علی کے خلاف لوگوں کو بھڑ کاتی تھی۔ہاں آپ علم کو ایذا بھی دیا کرتی تھی۔تو صرف ہجو کرنے کے نتیجہ میں قتل کرنے کو جائز قرار دینے والے باقی کے جرائم کو کیوں بھول جاتے ہیں۔؟ احادیث کے حوالہ سے جو ابھی تک لکھا گیا ہے اس میں ہی تین عورتوں کے قتل کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔پہلی دو عورتوں کے بارے میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ دراصل یہ ایک ہی واقعہ ہے جسے دو طریق سے پیش کیا گیا ہے۔اس واقعہ پر غور کرنے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی پہلے دو واقعات سے ہٹ کر کوئی اور واقعہ نہیں ہے لیکن اس کے بارے میں لکھا ہے کہ ی عورت وہ نہیں ہے جس کو اس کے نابینا آقا نے قتل کیا تھا اور نہ ہی وہ یہودی عورت ہے جسے قتل کیا گیا تھا، اس لئے کہ یہ عورت قبیلہ بنی امیہ بن زید سے تعلق رکھتی تھی جو انصار کی ایک رض شاخ ہے۔اس کا شوہر قبیلہ بنی خطمہ سے تھا۔اسی لئے حضرت ابن عباس کی روایت میں اس عورت کو بنی خطمہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اس کا قاتل اس کا شوہر نہیں تھا۔اس کی چھوٹی بڑی عمر کے بیٹے بھی تھے، البتہ قاتل اس کے شوہر کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۵۹) سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس تیسری عورت والا واقعہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور اس میں محمد بن عمیر حجاج متہم ہے۔جبکہ دوسری عورت والا واقعہ بھی اسماعیل بن جعفر نے بطریق اسماعیل از عثمان شیخام از عکرمه از ابن عباس سے مروی ہے۔پہلی عورت والا واقعہ شعبی نے حضرت علی سے روایت کیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعات ایک ہی نابینا شخص