اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 265
265 پیش کیا ہے وہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ سارا کا سارا واقعہ واقدی کے سامنے پیش آیا ہے۔اور جو تفصیل اس نے پیش کی ہے وہ اور کسی جگہ دکھائی نہیں دیتی۔بات اس طرح سے کرتے ہیں کہ جیسے یہ اس وقت ساتھ ساتھ تھے۔کہ دیکھا کہ بچے اردگر دسوئے ہیں ایک بچہ اس عورت کے سینے پر ہے اور وہ عورت اسے دودھ پلا رہی تھی پھر اس نے عورت کو ٹولا اور بچے کو اس سے الگ کیا پھر اپنی تلوار اس کے سینے پر رکھی اور اس کے سینے سے پار کر دیا وغیرہ ! یہ کیا ہے؟ یہ ساری کی ساری ایک بناوٹی کہانی دکھائی دیتی ہے جس میں واقدی بقول بزرگان سلف خوب ماہر تھا۔اگر اس سارے معاملہ پر غور کیا جائے تو یہ بات رسول کریم صلیمی کی شان کے برخلاف دکھائی دیتی ہے کہ آنحضرت مال یا کسی عورت کو قتل کرنے کا حکم دیں وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ وہ رسول خدا اسلام کی ہجو کیا کرتی تھی اور اس کے سوا اس کا اور کوئی جرم نہ ہو۔غور کریں کہ ایک طرف جنگ کا ماحول ہو اور وہاں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی جنگ میں شریک ہوں اور قرآن ایسے موقعہ کے لئے حکم دیتا ہو کہ اسی حالت میں کہ دشمن کو جس جگہ بھی پاؤ اس کو قتل کر دو اس کے باوجود میرے پیارے آقا علی ایم کا یہ فرمانا کہ جنگ میں بھی کسی عورت کو بچے کوقتل نہ کیا جائے آپ میم کا کسی عورت کو قتل کرنے کے حکم سے بری کرتا ہے۔پھر ان ہر دو روایات میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ایک میں تو یہ بات آئی ہے کہ رسول کریم علی سلیم نے یہ فرمایا کہ اس عورت سے کون نمٹے گا اور واقدی کہاتا ہے کہ عمیر بن عدی الخطمی نے اس عورت کی حرکتوں رسول کریم علی اللہ کو ایذا دینے ، اسلام میں عیب نکالنے، آنحضرت علایم ایم کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کی بنا پر ازخود اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔یہ اختلاف ہی اس واقعہ کی صحت کو کمزور کرتا ہے۔اور اس سے ایک اور بات یہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو اس عورت کے قتل کا جواز اس بات سے نکالتے ہیں کہ اسے صرف رسول کریم