اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 188 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 188

188 یعنی۔اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے کس طرح عہد و پیمان کر سکتے ہیں سوائے ان (مشرکوں کے ) جن کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا تھا پس جب تک وہ تمہارے مقابلہ پر ) اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی ان کے ساتھ معاہدہ پر قائم رہو۔اللہ (عہد توڑنے سے بچنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔(ہاں اس قسم کے مشرکوں کو کوئی رعایت ) کس طرح ( دی جاسکتی ہے کیونکہ وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمہاری کسی رشتہ داری یا معاہدہ کی پرواہ نہیں کریں گے وہ تم کو اپنے منہ ( کی باتوں ) سے خوش رکھتے ہیں حالانکہ ان کے دل ( ان باتوں سے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر عہد و پیمان کو توڑنے والے ہوتے ہیں۔فتح مکہ کے بعد مکہ والے مشہور کرتے تھے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر سب کفار کو معافی مل گئی ہے۔اور ان سے معاہدہ ہو گیا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے جب تک وہ خود نیچے ہو کر معاہدہ کی درخواست نہ کریں ان سے کس طرح عہد ہو سکتا ہے۔دوسری بات جو عہد کی گئی ہے اس سے مراد ان مشرکوں سے عہد قائم ہے جنہوں نے صرف فتح مکہ کو معاہدہ قرار نہیں دیا بلکہ درخواست کر کے اپنے لئے امن کا اعلان کروایا تھا۔ان آیات میں قرآن کریم نے مشرکوں کے ساتھ معاہدات کرنے کا ایک اصول بیان کیا ہے اور یہ تعلیم دی ہے کہ مشرکوں کے ساتھ ہمارے عہد و پیمان اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک وہ ہمارے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کو پورا کرتے رہیں گے لیکن اگر انہوں نے اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیا تو ہماری طرف سے کئے گئے عہد و پیمان بھی ختم ہو جائیں گے۔جنگ کی صورت میں جب دشمن اپنی شکست کو تسلیم کرلے اور خود معاہدہ کے لئے ہاتھ بڑھائے تو ہی ان سے معاہدہ کیا جاتا ہے اور اگر دشمن اس بات پر امادہ نہ ہوتو ایسی صورت میں جنگ جاری رہتی ہے کسی دشمن کا صرف شکست تسلیم کر لینا معاہدہ کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔دشمن کو یا تو اسلام قبول