اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 187
187 ہے جولوگ اہل کتاب میں سے اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر ، اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ تمہارے ماتحت ہو کر تمہیں جزیہ دیں“ تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ اول ایک کا فرجب جنگ کرنے پر مغلوب ہو جاتا ہے ہو مسلمانوں کے تحت آکر جزیہ دینے کے عہد کے ساتھ ذمی ہونا قبول کر لیتا ہے اور وہ اس مملکت کے احکامات کا پابند ہو جاتا ہے جو اس میں جاری ہوتے ہیں اور مسلمانوں اور ملک کے خلاف وہ کسی قسم کو فتنہ وفساد نہیں کرے گا۔لیکن اگر وہ ان احکامات کی پابندی سے باہر جاتا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنہ وفساد کی باتیں کرتا ہے دین کو اور رسول اللہ لال ہمالیہ کو گالیاں دیتا ہے تو گویا وہ اپنا ذقی ہونے کا عہد توڑ کر اس سے باہر جاتا ہے ایسی صورت میں اسے حربی کافرماناجائے گا گویا کہ وہ اب مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ ہے ایسا حربی جب جنگ کرنے کے لئے میدان میں اترے گا تو لاز ما قتل ہوگا۔یا پھر اس کی دوسری صورت جو او پر بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ وہ اپنے اس فعل سے تو بہ کرتے ہوئے پھر سے اپنا ذھی ہونا تسلیم کرتے ہوئے تابعداری اختیار کرلے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا یا پھر وہ اسلام قبول کر لے تو امن میں آجائے۔دوسر ولیل كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ الله وعند رسوله إلا الذين عهدتم عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوا لَهُمْ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلَّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُو نَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبِي قُلُوبُهُم ، وَأَكْثَرُهُمْ فَسِقُوْنَ (التوبة آيت ۸٫۷)