اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 189
189 کر کے امن حاصل کرنا ہوگا یا اگر وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے فتح کئے گئے ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں جزیہ کی شرط پر معاہدہ کر کے ذمی کی حیثیت سے اس ملک میں رہنا ہوگا۔ان آیات میں اسی بات کو بیان کیا گیا ہے اور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہم معاہدہ نہیں توڑیں گے لیکن اگر مخالف معاہدہ توڑتا ہے تو ہماری طرف سے بھی معاہدہ ختم ہو جائے گا اس طرح معاہدہ توڑنے والے حربی کہلائیں گے۔اسلام نے ہمیشہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا ہے دیگر مذاہب کو دیکھا جائے تو دشمنوں پر غلبہ کے بعد مفتوح قوموں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی اور نہ ہی انہیں سوچنے اور سمجھنے اور فیصلہ لینے کا موقعہ دیا جاتا ہے بلکہ اپنے فیصلے صادر کئے جاتے ہیں۔اوپر بیان کردہ آیت میں خدا تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ ان مشرکوں کو کوئی رعایت کس طرح سے دی جاسکتی ہے کیونکہ اگر یتیم پر غالب آجائیں تو یہ تمہاری کسی رشتہ داری یا تمہارے کسی معاہدہ کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔امام ابن تیمیہ بھی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں ان آیات میں فرمایا کہ رسول کریم علی سلیم نے جن لوگوں سے عہد کیا ہے ان میں سے کسی کا عہد بھی درست نہیں، البتہ اس قوم کا عہد درست ہے جو اپنے عہد پر قائم ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مشرک کے ساتھ عہد اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک وہ اپنے معاہدہ پر قائم رہے۔پکھلی ہوئی بات ہے کہ جو شخص بر ملا ہمارے رب اور رسول کو گالیاں دیتا اور دین اسلام کی تخلیص کرتا ہو وہ اپنے معاہدے پر قائم نہیں ہے" مطلب یہ کہ ان کے ساتھ معاہدہ کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت داری کا لحاظ کریں گے اور نہ اس عہد کا جو تمہارے اور ان کے درمیان ہے؟ پس معلو ہوا کہ جس کا یہ حال ہو اور جو علانیہ ہمارے دین کو ہدف طعن بنا تا ہو تو یہ اس امر کی