اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 186
186 حرام ہو جاتے ہیں، اگر چہ وہ ہم پر واجب ٹھہرتا ہے کہ ہم ان کے مذہب کو گالی نہ دیں اور نہ ان پرطعن کریں۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۴۳۰ و ۴۳۱) اسی طرح لکھا ہے کہ مزید برآں گالی دینے کی صورت میں ذقی کو یا تو اس کے کفر اور جنگ آزمائی کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے، جس طرح گالی دینے والے حربی کو قتل کیا جاتا ہے، یا اس کو حد لگانے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے، مثلاً یہ کہ وہ ذھی عورت کے ساتھ زنا کرے یا کسی ذقی پر ڈاکہ ڈالے، ظاہر ہے کہ دوسری صورت باطل ہے ، پس پہلی صورت متعین ہوئی اور وہ اس لئے کہ گالی اس حیثیت سے گالی ہے، بے آبروئی کے سوا کچھ نہیں اور اتنے سے جرم کی سز اصرف کوڑے مارنا ہے، بلکہ یوں کہنا اقرب الی القیاس ہے کہ اس کی وجہ سے ذمّی پر کوئی بھی سز عائد نہیں ہوتی ، اس لئے کہ وہ اسے حلال سمجھتا ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ہم نے اس سے صلح کی ہے کہ وہ ان باتوں سے باز رہے گا، لہذا جب وہ علانیہ گالی دیگا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ حربی بن جائے گا“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۴۳۱ و ۴۳۲) ان حوالوں کو دیکھنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ ذمئی اگر گالی دیتا ہے تو اس سے اس کا وہ عہدٹوٹ جاتا ہے جو اس نے مغلوب ہونے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔اس صورت میں وہ ان لوگوں میں شمار ہو گا جو مسلمانوں کے ساتھ بحیثیت کفر کے جنگ پر آمادہ ہوتے ہیں۔ہاں جنگ کی صورت میں وہ حربی ہونے کی صورت میں قتل کیا جائے گا صرف گالی دینے کی وجہ سے اس کا قتل واجب نہیں ٹھہرتا۔یا پھر ذقی کو اس پر اگر کوئی حد واقع ہو جائے تو قتل کیا جائے گا۔جس آیت کے تحت یہ ساری بحث کی جارہی ہے اس پر پھر سے غور کریں اللہ فرماتا