اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 180
180 ہے کہ ایسے لوگوں پر جز یہ لگایا جاتا ہے اہمیں تو حکم ہے کہ غرباء کی امداد کریں نہ کہ الٹا ان پر ٹیکس لگائیں۔اس کے بعد ایک عام حکم جاری فرمایا کہ ایسے لوگوں پر جز یہ نہ لگایا جاوے بلکہ اس قسم کے لوگوں کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاوے۔“ ( کتاب الخراج قاضی ابو یوسف فصل فی من تجب علیہ الجزیۃ صفحہ ۷۴ بحوالہ سیرت خاتم النبیین علایل صفحه ۶۵۶) الغرض ذمی اسے کہا جاتا ہے جو اسلامی مملکت میں اپنے دین پر رہنا چاہیے اور اپنی ہر طرح کی امان کے لئے جزیہ ادا کرے۔ایسے شخص پر اسلامی قانون تو نافذ نہ ہونگے البتہ جزیہ کے بدلہ میں ایک معاہدہ کے تحت اپنے آپ کو اس مملکت کا ایک شہری ہونا تسلیم کرے گا۔اور ملکی قوانین کی پابندی اس پر لازم ہوگی۔اور جب تک وہ جز یہ ادا کرتار ہے اور مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کی پاسداری کرے گا اس وقت تک اس کو امن امان سے اس ملک میں رکھنے کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہوگی۔اور مذہبی معاملہ میں اس پر کوئی جبر نہیں ہوگا۔فی زمانہ اگر دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں کوئی ایک بھی اسلامی مملکت ایسی نہیں جہاں غیر مسلموں سے جز یہ لیا جا تا ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فی زمانہ ہر ملک میں ایک جمہوری نظام قائم ہے کہیں اس کی کوئی صورت ہے اور کہیں اس کی کوئی اور صورت لیکن ہے جمہوری نظام۔خواہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش ، سعودی عرب ہو یا یمن، ایران ہو یا عراق کسی ایک ملک میں بھی اس وقت جزیہ کا اصول قائم نہیں جبکہ ان ممالک میں ہندو، عیسائی، یہودی ،مشرک، ناستک ہر طرح کے لوگ آباد ہیں۔اس اعتبار سے تو کسی غیر مسلم سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کسی کو آج کے زمانہ میں ذخی کہا جاتا ہے۔جمہوری نظام میں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور ہر شخص اپنے ملکی قوانین کا پابند ہے۔اس لحاظ سے فی زمانی ذقی کی بحث بے مقصد معلوم ہوتی ہے۔جبکہ امام ابن تیمیہ نے شاتم رسول کی سزا کے عنوان کو کتاب کے ۶۰ فی صد حصہ میں ذھی کے بارے