اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 179 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 179

179 ڈالے جوان کی طاقت سے زیادہ ہو۔“ (کتاب الخراج صفحہ ۷۲)۔۔۔۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب شام فتح ہوا تو معاہدہ کی رو سے مسلمانوں نے شام کی عیسائی آبادی سے ٹیکس وغیرہ وصول کیا۔لیکن اس کے تھوڑے عرصہ بعد رومی سلطنت کی طرف سے پھر جنگ کا اندیشہ پیدا ہو گیا جس پر شام کے اسلامی امیر حضرت ابوعبیدہ نے تمام وصول شدہ ٹیکس عیسائی آبادی کو واپس کردیا اور کہا کہ جب جنگ کی وجہ سے ہم تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتے تو ہمارے لئے جائز نہیں کہ ٹیکس اپنے پاس رکھیں۔عیسائیوں نے یہ دیکھ کر بے اختیار مسلمانوں کو دعادی اور کہا ”خدا کرے تم رومیوں پر فتح پاؤ اور پھر اس ملک کے حاکم بنو“ چنانچہ جب مسلمانوں نے دوبارہ فتح حاصل کی تو علاقہ کی عیسائی آبادی نے بڑی خوشی منائی اور واپس شدہ ٹیکس پھر مسلمانوں کو ادا کئے۔“ (کتاب الخراج صفحہ ۸۱،۸۰، ۸۲) یہ اس قسم کے حسن سلوک کا نتیجہ تھا کہ جب حضرت عمر خلیفہ ثانی شام میں تشریف لے گئے تو وہاں کے عیسائی لوگ گاتے اور بجاتے ہوئے ان کے استقبال کے لئے نکلے اور ان پر تلواروں کا سایہ کیا اور پھولوں کی بارش برسائی (فتوح البلدان بلاذری صفحه ۱۴۶) ( بحوالہ سیرت خاتم النبیین مالی صفحه ۶۵۱ تا ۶۵۵ مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب النہ ایم۔اے شائع شدہ نظارت نشر و اشاعت قادیان ۲۰۰۱ء) اسی پر بس نہیں بلکہ اسلامی حکومت میں غیر مسلم رعایا نادار اور غریب ذمیوں کی امداد کا بھی انتظام تھا۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو اسے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ اس نے کہا۔بوڑھا ہو گیا ہوں۔اور نظر کمزور ہے۔کام ہو نہیں سکتا اور جزیہ کی رقم بھی ابھی مجھ پرلگی ہوئی ہے۔یہ سن کر حضرت عمر بے چین ہو گئے۔فوراً اسے اپنے ساتھ لیا اور اپنے گھر لا کر مناسب امداد دی اور پھر بیت المال کے افسر کو بلا کر کہا کہ یہ کیا بے انصافی