اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 138
138 فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَاناً وَ إِثْماً مُّبِيناً (الاحزاب ۵۹) اس نے بہتان باندھا اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا۔“ جبکہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے کو دنیا و آخرت میں لعنت کی ہے اور اس کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کیا ہے۔ظاہر ہے کہ اہل ایمان کو ایڈ اکبھی کبھی تو کہا ئر کا ارتکاب کرنے کے وجہ سے دی جاتی ہے اور اس میں کوڑے مارنا بھی شامل ہے، اس سے اوپر صرف کفر اور قتل باقی رہ جاتا ہے۔تیسری وجہ X* اللہ نے ذکر کیا ہے کہ اس نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔لعنت کے معنی رحمت سے دور کرنے کے ہیں اور دنیا اور آخرت میں اس کی رحمت سے محروم صرف کا فر ہوتا ہے ، اس لئے کہ مومن بعض اوقات لعنت کے قریب تو پہنچ جاتا ہے مگر وہ مبارح الدم نہیں ہوتا، اس لئے کہ خون کی حفاظت اللہ کی طرف سے عظیم رحمت ہے جو کافر کے حق میں ثابت نہیں ہوتی۔“ (الصارم السلوم علی شاتم الرسول صفحہ ۹۲ و ۹۳ ) اسی مضمون کو مولانا طاہر القادری صاحب نے بھی اسی حوالہ کو اپنی کتاب میں پیش کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اللہ کی لعنت سے بڑھ کر اور کوئی بات نہیں ہو سکتی اور اگر اللہ کسی پر لعنت کرے تو اس کی سزا ہی یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔اس مضمون کو اس حوالہ سے مرتد کی سز اقتل کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے اور وہاں اسکی پوری تفصیل درج کی گئی ہے۔اس جگہ اس قدر بیان کرنا ہی کافی خیال کرتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ملعون کو قتل کرنے کا قرآن کریم میں کوئی حکم صادر نہیں فرمایا تو پھر کسی کو اپنے طور پر صرف أَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِيناً کے الفاظ سے یہ مفہوم نکالنے کا جواز نہیں بنتا کہ اس سے مراد قتل ہے اور قاتل مباح الدم ہو جاتا ہے۔اگر اس کا مطلب یہی نکالا جائے تو پھر ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ