اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 139
139 قرآن کریم میں فرماتا ہے كَيْفَ يَهْدِ اللهُ قَوماً كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْا أَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَ جَاءَ هُمُ الْبَيْنَتُ ، وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ ، أُولَئِكَ جَزَاءُ هُمْ أَنَّ ج عَلَيْهِم لَعْنَتُ اللهِ وَالْمَلئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خَلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظُرُونَ (ال عمران آیت ۸۷ تا ۸۹) یعنی۔جولوگ ایمان لانے کے بعد ( پھر ) منکر ہو گئے ہوں اور شہادت دے چکے ہوں کہ ( یہ ) رسول سچا ہے اور (نیز) ان کے پاس دلائل بھی آچکے ہوں انہیں اللہ کس طرح ہدایت پرلائے۔اور اللہ ( تو ) ظالم (لوگوں) کو ہدایت نہیں دیتا۔یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں ( کی) اور لوگوں ( کی) سب ہی کی لعنت ہو۔وہ اس (لعنت ) میں رہیں گے : ( تو ) ان ( پر) سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔اب یہاں پر تو ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹنے والوں پر تو اس سے بڑی لعنت کا ذکر ہے کہ اللہ کی لعنت ، فرشتوں کی لعنت اور سب لوگوں کی لعنت۔لیکن ان کو عذاب دینا اللہ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کے عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی انہیں ڈھیل دی جائے گی۔یہ نہیں فرمایا کہ ایسے لوگوں کوئی ڈھیل نہ دی جائے اور قتل کر دیا جائے ! اللہ کی رحمت سے دوری اور بات ہے اور کسی کو قتل کر دینا یہ اور بات ہے۔لعنت کے معنیٰ ہی اللہ کی رحمت سے محرومی کے ہیں۔لغات میں لعنہ اللہ کے معنی اللہ کا کسی کو خیر سے دور اور رح محروم کرنا ہے۔امام ابن تیمیہ نے خود بھی لکھا ہے کہ لعنت کے معنی رحمت سے دور کرنے کے ہیں اور دنیا اور آخرت میں اس کی رحمت سے محروم صرف کافر ہوتا ہے۔لعنت کے یہ معنی تو نہیں کہ چونکہ یہ شخص دنیا اور آخرت میں رحمت خداوندی سے دور ہو گیا ہے لہذا اس کو قتل کر دیا