اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 137
137 آخرت میں اپنے قرب سے محروم کر دیتا ہے اور اس نے ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر چھوڑا ہے۔اور وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی قصور کیا ہو تکلیف دیتے ہیں ان لوگوں نے خطر ناک جھوٹ اور کھلے کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر اٹھالیا ہے۔اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں ی آیت کئی وجوہ سے مسئلہ زیر قسم پر دلالت کرتی ہے۔پہلی وجہ پہلی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایذا کو رسول کی ایذا اور اپنی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ مقرون و متصل کر کے بیان کیا ہے، یہ بطریق منصوص بھی آپ سے منقول ہے۔اور جو شخص اللہ کو ایذا دے وہ کافر اور مباح الدم ہے۔اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنی اور رسول صلم کی محبت اور رسول کی رضا مندی ، اپنی اطاعت اور رسول کی اطاعت کو 66 ایک ہی چیز قرار دیا ہے۔“ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۹۰) اس کے بعد ان آیت کو بیان کیا گیا ہے جس میں اللہ اور رسول کو روحانی اعتبار سے ایک وجود قرار دیا گیا ہے کیونکہ جسمانی طور پر تو ایک نہیں ہو سکتے مثلاً جو تیرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ تیرے ہاتھ پر نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔(الفتح آیت ۱۱) وہ تجھ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے۔(الانفال آیت (۲) اللہ اور اس کا رسول اس بات کے بہت حقدار ہیں کہ ان کو راضی کریں۔(التوبہ آیت ۶۳ ) پھر آگے چل کر فرماتے ہیں وو دوسری وجہ X* دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے اللہ اور رسول کی ایذا اور مومنین اور مومنات کی ایزا میں تفریق کی ہے اور اہل ایمان کی ایڈا کے بارے میں فرمایا