اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 136
136 لائے لیکن تم یہ کہا کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر فرمانبرداری قبول کر لی ہے۔کیونکہ (اے اعراب ) ابھی ایمان تمہارے دلوں میں حقیقی داخل نہیں ہوا۔اور اے مومنو! اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت کرو گے، تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی عمل بھی ضائع نہیں ہونے دیگا اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے قرآن کریم کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ جو اعرابی لوگ تیرے پاس آئے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لا کر مومن ہو گئے ہیں تو ان کو کہہ دے کہ تم مومن نہیں ہوئے ہو بلکہ ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل بھی نہیں ہوا ہے۔اب دیکھیں ایک طرف اللہ کا رسول ہے اور دوسری طرف اللہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ لوگ مومن نہیں۔کسی کے مومن نہ ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کون سے شہادت ہوسکتی ہے اس کے باوجود ایسے بے ایمان لوگوں کے بارے میں آنحضرت علی نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں فرمایا کہ چونکہ یہ مومن نہیں ہیں اس لئے انہیں قتل کر دیا جائے۔جب قرآن کریم ایسے غیر مومنوں کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیتا تو پھر کسی کے غیر مومن ہو جانے کی بنا پر کس طرح قتل کیا جاسکتا ہے اور اس کا غیر مومن ہونا کس طرح سب وشتم اور توہین رسالت کے تحت آسکتا ہے۔جبکہ قرآن کریم پ بھی اعلان کرتا ہے کہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔۵ - امام ابن تیمیہ نے پانچویں دلیل جو قرآن کریم سے پیش کی ہے وہ اس طرح ہے إنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَتَهُمُ الله في الدنيا والأخرة واعتلهم عَذَابًا مُّهِيناً وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَاناً وَ إِثْماً مُّبِیناه (الاحزاب آیت ۵۹٫۵۸) یعنی۔وہ لوگ جو کہ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں اللہ ان کو اس دنیا میں اور