اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 79

79 (۵) اسی طرح تاریخ الخمیس میں بھی مذکور ہے۔مسیلمہ کذاب کے ساتھ بنوحنیفہ کی اکثریت ہوگئی۔وہ ثمامہ پر قابض ہو گیا اور اس نے رسول اللہ کے گورنر ثمامہ کو نکال باہر کیا۔انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں پیغام بھجوایا۔جب رسول اللہ فوت ہو گئے تو انہوں نے حضرت ابو بکر کو اطلاع کی جس پر آپ نے حضرت خالد بن ولید کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ مسیلمہ کے مقابلہ کے لئے روانہ فرمایا۔( تاريخ الخميس لحسين بن محمد الديار بكرى قصة مسيلمة الكذاب ) پس صحابہؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے قبیلہ بنو حنیفہ کے خلاف محض ارتداد کی بناء پر جنگ نہیں کی بلکہ بغاوت کے جرم کی وجہ سے کی تھی کیونکہ مسیلمہ باغی تھا اور مسلمانوں کے خلاف اس نے لشکر کشی کی تھی۔(۲) پھر علامہ عینی شارح صحیح البخاری لکھتے ہیں۔إِنَّمَا قَاتَلَ اَبُوْبَكُرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَانِعِي الزَّكوة، لانهم امْتَنَعُوا بِالسَّيْفِ، وَ نَصَبُوا الْحَرْبَ لِلْامَّةِ » (عمدة القارى لعلامه محمود بن احمد العينى شرح البخارى كتاب استتابة المرتدين و المعاندين و قتالهم باب قتل من ابى قبول الفرائض وما نسبوا الى الردة ) یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں سے صرف اس لئے قتال کیا کہ انہوں نے تلوار کے ذریعہ سے زکوۃ روکی اور مسلمانوں کے خلاف جنگ بر پا کی۔