اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 80
80 عجیب بات وو علاوہ ازیں تاریخ الطبری اور تاریخ ابن خلدون میں یہ بھی مذکور ہے کہ : جنگ کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو باغیوں پر فتح حاصل ہو گئی تو ان میں سے بعض کو قید بھی کیا گیا۔غلام بھی بنایا گیا“۔(تاريخ الطبری، حوادث ۵۱۱ - صفحه ۲۵۹ تا ۲۶۳ ، تاریخ ابن خلدون جلد اول ردة اهل عمان و مهرة واليمن صفحه ۸۷۲٬۸۷۱ مطبوعہ دارابن حزم بيروت الطبعة الاولى ٢٠٠٣م) اگر مرتد کی سزا قتل تھی اور حضرت ابوبکر صدیق کی لشکر کشی کی یہی وجہ تھی اور اگر اسلام تو بہ کے باوجود بھی مرتد کے لئے قتل کے سوا اور کوئی سزا تجویز نہیں کرتا تو حضرت ابوبکر صدیق کو اس وقت یہ بات بھول کیوں گئی؟ کیا حق تھا ان کو کہ شریعت اسلامیہ کے اس واضح حکم کی خلاف ورزی کرتے کہ جن کے بارہ میں خدا کہتا ہے کہ لازما تم نے ان کو قتل کرنا ہے اور تین دن سے زیادہ مہلت نہیں دینی ، انہیں اس جرم میں پکڑنے کے باوجود، قابو میں کر لینے کے باوجود قتل نہیں کیا بلکہ غلام بنالیا؟ ایک مرندہ کا قتل مولانا مودودی نے اُمّ قرفه نامی مرتد ہ کا ذکر بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ : حضرت ابوبکر کے زمانہ میں ایک عورت جس کا نام اُمّ قرفہ تھا اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئی۔حضرت ابو بکر نے اس سے تو بہ کا مطالبہ کیا مگر اس نے توبہ نہ کی حضرت ابوبکر نے اسے قتل کرا دیا۔“ ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں صفحہ ۱۸)