اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 30
30 معافی اور عفو کا سلوک مولوی عثمانی صاحب کے نزدیک یہ تھا کہ ایک طرف کہا کہ ہم تمہیں معاف کر رہے ہیں اور دوسری طرف سے قتل کا حکم دید یا اور گویا وہ شکر ادا کرتے کرتے قتل ہو گئے کہ اے خدا! ہم تیرے بڑے ہی ممنون ہیں۔تو نے ہمیں معاف کرنے میں کمال کر دیا۔کسی انسان سے ایسا عفو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ایسی مغفرت کبھی سننے میں بھی نہیں آئی تھی۔کہ زبان سے عفو کا حکم جاری ہے اور اشارے یہ ہورہے ہیں کہ ان کو قتل کرتے چلے جاؤ۔اس سے بڑا عفو ممکن نہیں۔پھر فرماتا ہے: اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب یعنی تو ارات اور فرقان یعنی معجزات دیئے تا کہ تم ہدایت پاؤ۔اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر بہت ہی ظلم کیا ہے۔پس اللہ سے توبہ کرو اور تو بہ کے بعد اپنے نفسوں کو قتل کرو۔یہ بات تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے حق میں بہت اچھی ہے۔(جب تم نے ایسا کر لیا) تب اس نے تمہاری طرف فضل کے ساتھ پھر توجہ کی۔وہ یقیناً اپنے بندوں کی طرف بہت توجہ کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے یہ آخری آیت وہ آیت ہے جسکا غلط ترجمہ کر کے آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے حالانکہ یہاں فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُمْ “ میں مذکور اَنْفُسَكُم “ وہی انْفُسَكُمُ ہیں جن کا ذکر "ظَلَمُتُمُ اَنْفُسَكُمْ “ میں ہوا ہے۔سو فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُمُ سے مراد یہ ہے کہ ظلم کرنے والا اپنے نفس کو قتل کرے۔کہیں بھی ہرگز ا یہ نہیں لکھا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔بلکہ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا ان کو