اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 29
29 اللہ تعالیٰ ہم پر رحم نہ فرمائے اور ہماری بخشش نہ کرے یا ہم پر رحم نہ فرماتا اور ہماری بخشش نہ کرتا تو ہم یقینا گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جاتے۔اس حصہ آیت کو پیش کر کے مولانا عثمانی صاحب یہ استدلال فرماتے ہیں کہ : ”دیکھو! باوجود اس کے کہ انہوں نے توبہ کر لی، باوجود اس کے کہ اللہ نے رحم فرما دیا، باوجود اس کے کہ ان کی مغفرت ہوگئی، پھر بھی قتل کا حکم جاری فرما دیا (مجله الشہاب ص ۱۸) گویا مولوی صاحب کے نزدیک گھاٹا پانے والوں کی یہ تعریف ہے۔حادثہ کے بارہ میں قرآن میں مذکور تفاصیل قرآن کریم کے پیش کردہ سیاق و سباق کی روشنی میں اب اصل واقعہ ملاحظہ کیجئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاذْ وَعَدْنَا مُوسَى اَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَاَنْتُمْ ظَلِمُونَ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ) وَإِذْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ إِنَّكُمُ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوا إِلَى بَارِ بِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِ بِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرة : ۵۵۲۵۲) یعنی اس وقت کو یا دکر و جب ہم نے موسی سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔پھر تم نے اس کے چلے جانے کے بعد ظالم بن کر بچھڑے کو معبود بنالیا۔پھر ہم نے اس کے بعد بھی تمہیں معاف کر دیا تا کہ تم شکر گزار بنو۔