اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 31
31 مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جن جانوں پر تم نے ظلم کیا ہے ان کو قتل کر دو۔د قتل نفس کا مفہوم اور قتل نفس کا یہاں مطلب عربی لغت کی رو سے واضح طور پر یہ ہے کہ گریہ وزاری یا PENANCE کے ذریعہ توبہ و استغفار کے ذریعہ اپنے نفس امارہ کو کچلو۔ایک ظلم تم نے کیا شرک کر کے، اب شرک کے اثر مٹانے کے لئے دوسرا ظلم یہ کرو کہ اپنے نفس کو توجہ دلا ؤ ، بار بار توبہ واستغفار کرو۔علامہ شبیر عثمانی صاحب کو یہ واضح بات سمجھ نہیں آ رہی اور ایک ایسی بات کی ہے جس کا قرآن سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ان کو یہ بات تو سمجھ آ گئی تھی کہ جنہوں نے خود ظلم کیا ہے وہ اپنے آپ کو کس طرح قتل کریں گے؟ کیا تو بہ کے بعد خود کشیاں کرلیں؟ اسکا حل یہ بتایا کہ ان کو حکم یہ تھا کہ تم لوگوں میں سے جن لوگوں نے گناہ نہیں کیا ہے وہ باقی ان سب کو قتل کر دیں جنہوں نے گناہ کیا ہے۔یعنی جو اپنے دین پر قائم رہے وہ مرتدین کو قتل کر دیں۔حالانکہ قرآن کریم مخاطب ہی ان کو ہو رہا ہے جنہوں نے ظلم کیا تھا اور کہیں بھی کسی آیت میں بھی جنہوں نے ظلم نہیں کیا تھا ان لوگوں کو مخاطب نہیں ہو رہا بلکہ سارے مضمون میں جہاں جہاں بھی بیان ہوا ہے ان لوگوں کا کوئی ذکر ہی نہیں جنہوں نے گناہ نہیں کیا تھا۔ان کو کہیں نہیں فرمایا کہ تم قتل کرو۔مولوی صاحب نے اپنی طرف سے ایک بات ایجاد کی اور اسے قرآن کی طرف منسوب کر دیا۔