اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 28

28 صل الله ہوئی تھی ، اس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دستور تھا کہ اگر قرآن میں کسی خاص مسئلے کے متعلق کوئی حکم نازل نہ ہوا ہوتا تو گزشتہ کتب سے نظیر پکڑا کرتے تھے۔(ملاحظہ ہو مسلم، کتاب الفضائل، باب صفة شعره له وصفاته) اور جن امور کے بارہ میں قرآن کریم میں نص صریح نازل ہو چکی ہو ان میں ہرگز کبھی ایک دفعہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کے لئے گزشتہ کتب سے کوئی نظیر نہیں پکڑی قتل مرتد کا کوئی ذکر قرآن کریم میں ، مرتد کے ذکر کے باوجود بھی ، موجود نہیں۔مرتد کے بارہ میں تفصیلی تعلیمات موجود ہیں اور بکثرت ذکر موجود ہے۔جب قرآن نے مرتد کے موضوع پر لب کشائی فرما دی اور قتل کا ذکر نہ فرمایا تو یہ استدلال نہایت کج استدلال ہے کہ قرون خالیہ میں کسی واقعہ کا ذکر موجود ہے اور اس کا انکار نہیں کیا گیا اس لئے ہم اس سے نظیر پکڑتے ہوئے اسے شریعت کا حصہ بنالیں گے اور یہ ہم پر فرض ہے۔یہ بات بالکل غلط ہے اور سنت کے بالکل خلاف ہے۔یہ درست ہے کہ جب کسی موضوع پر حکم نہیں ملتا تھا اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرانی امتوں یعنی توارت کی تنتبع فرمایا کرتے تھے۔جب اس موضوع پر حکم آجاتا تھا تو ہر گز اسکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔اور اب دوسرے استدلال کا قصہ سنئے اور دیکھئے کہ مرتد کی سزا قتل کا موضوع ہے بھی کہ نہیں۔مولانا عثمانی صاحب درج ذیل آیت کریمہ پیش کرتے ہیں: وَلَمَا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَبِنُ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخُسِرِينَ (الاعراف : ۱۵۰) یعنی جب اس معاملہ کا اختیار ان کے ہاتھ سے جاتا رہا اور انہوں نے خوب کھول کر یہ بات دیکھ لی کہ وہ گمراہ ہو گئے اور غلطی کی تھی تو انہوں نے کہا اگر