اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 10
10 قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِّنَ السَّلَاحِ قَالَ: أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا، فَمَا زَالَ يُكَوِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ۔وَفِي رِوَايَةٍ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمُ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ - وَ فِي رِوَايَةٍ ثَالِثَةٍ، قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرُ لِي قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إلهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَة فَقَالَ : فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى اَنْ يَقُولَ: كَيْفَ تَصْنَعُ بِلا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ - (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الكافر بعد ان قال " لا اله الا الله حدیث نمبر ۱۵۸، ۱۵۹، ۱۶۰) " حضرت اسامہ بن زید بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک سریہ پر گئے۔جہینہ قبیلہ کے علاقہ ”حرقات پر صبح صبح حملہ آور ہوئے۔مجھے ایک آدمی مل گیا۔جب میں اس پر غالب آ گیا تو اس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ پڑھ دیا ( حدیث میں صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ پڑھنے کا ذکر ہے۔محمد رسول اللہ بھی اس نے نہیں کہا ) مگر میں نے تب بھی اسے قتل کر دیا۔اس پر میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا اور میں نے مدینہ آ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سارا ماجرا عرض کیا۔تو آپ نے فرمایا: اے اسامہ! کیا تو نے اسے لَا إِلهَ إِلَّا اللہ پڑھنے کے باوجود قتل کر ڈالا؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! اس نے تو ہتھیاروں اور قتل کے خوف سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ پڑھا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا: أَفَلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ تو نے اس کا غلافوں میں چھپا ہوا دل کیوں نہ پڑھ لیا۔کاش ایسا ہوتا تا کہ تجھے پتہ چل جاتا کہ اس نے خوف سے پڑھا تھا یا دل سے پڑھا تھا ؟!