اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 9
9 کھاتے ہیں، جب تک احمدی ان تینوں چیزوں سے باز نہیں آئیں گے ہم ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیں گے۔جس دن یہ ان تینوں باتوں سے باز آ گئے ، اسی دن یہ ہمارے ذمے میں داخل ہو جائیں گے۔کیا یہ وہ ذمہ ہے جس کا ذکر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا؟ خدا اور رسول کے ذمے کے بالکل برعکس، ایک ایک شق سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نے اپنا ایک نیا ذمہ بنایا ہے۔مسلم کی ایک نئی تعریف بنائی ہے۔اور ان کا احمدیوں کی مساجد منہدم کرنے اور ان کا رخ خانہ کعبہ سے پھیر کر کسی اور طرف کرنے کا مطالبہ یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے گویا ایک نیا قبلہ بنایا ہے، نئی عبادت کے گر بتائے ہیں۔اور جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے، جماعت احمدیہ کو صرف اور صرف حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کافی ہے اور خدا اور اس کے رسول کا ذمہ کافی ہے، کسی اور ملاں کے ذمے کی ہمیں کوئی بھی پروا نہیں ہے۔تعریف نبوی۔سوم اب غیر مسلموں کو قتل کرنے کا بہانہ ڈھونڈنے والوں کے لئے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تعریف بیان فرمائی، جو اگر چه تعریف تو نہیں بلکہ ایک واقعہ پر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رد عمل ہے جو ایسی صورت میں ظاہر ہوتا ہے کہ جو ایک رنگ میں مسلمان کی تعریف بھی متعین کر دیتا ہے۔عَنْ أَسَامَةَ بن زَيْدٍ۔۔۔۔۔۔قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَصَبَّحْنَا الْحُرُقَاتِ مِنْ جُهَيْئَةَ فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَالِكَ فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِي الله فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ الا الله أَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ قَتَلْتَهُ؟ لے مقدمات کے تفصیلی اعداد و شمار کے لئے دیکھئے صفحہ ۱۴۲