اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 134
134 زمانہ بدل چکا ہے اس پر مستزاد یہ ہے کہ اب تو ایک اور وقت آچکا ہے۔ہم کسی اور زمانے میں نکل آئے ہیں۔وہ تمام انبیاء جن کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ ان کے مخالفین نے ارتداد کی سزائیں تجویز کی تھیں۔وہ سارے مخالفین اب اس عقیدے سے تو بہ کر بیٹھے ہیں۔وہ سارے مخالفین اجتماعی صورت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر ابھرے تو انہوں نے اپنی تاریخوں کو بھلا کر خود یہ عقیدہ اختیار کر لیا تھا اور ان سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ دعوی کر کے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے یا قید ہے یا بستی سے نکال دینا ہے گویا یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارے نبیوں کا دین جھوٹا تھا ہم ان کی طرف منسوب ہونے کے باوجود یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ بات سچی ہے۔یا دوسرے لفظوں میں وہ یہ سمجھتے تھے ( جس طرح آج کے علماء سمجھتے ہیں) کہ ان انبیاء کی یہی تعلیم تھی۔ان کے دین کی یہی تعلیم تھی اس لئے انہیں یہی کرنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دنیا میں جتنے دین تھے اگر ان سب کا اجتماعی فیصلہ یہ بھی تھا کہ مرتد کی سزا قتل ہے یا قید ہے یا بستی سے نکال دینا ہے تو اب تو زمانے کے رنگ بدل چکے ہیں۔اب تو یہودی بھی یہی کہتے ہیں کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے۔یہ ظلم ہے انسانیت کے نام پر۔یہ داغ ہے مذہب کے نام پر۔آج تو عیسائی بھی یہی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کو بے دریغ قتل کیا ہے تو بہت ظلم کیا ہے اور اس تاریخ کو دیکھ کر ہم شرمندہ ہیں۔ہمارے سر جھک جاتے ہیں جب ہم پین کی انکویزیشن (INQUISITION) کی تاریخ کے واقعات پڑھتے ہیں یا انگلستان میں ارتداد کے جرم میں سزائیں دینے کی تاریخ پڑھتے ہیں، تو بہ کر چکے ہیں۔آج