اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 135
135 بدھ بھی تو بہ کر چکے ہیں۔آج جین بھی تو بہ کر چکے ہیں۔آج ہر قسم کے مشرکین ، اپنی مسٹ بھی تو بہ کر چکے ہیں۔آج منوسمرتی کے ماننے والے جو کل تک یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اپنے دین سے پھرنے والے پر ہر قسم کے ظلم کرو اور جو شو در کلام الہی کو سن لیں ان کے کانوں میں سکہ پگھلا کر ڈالو وہ بھی تو بہ کر چکے ہیں۔یہ کیسا منظر الٹا ہے کہ آج قتل مرتد کا دعوی کرنے والوں میں سوائے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والوں کے اور کوئی اس میدان میں نہیں ملتا۔اس سے زیادہ دردناک منظر بھی کوئی سوچا جاسکتا ہے؟ سنبھلو کہ تم بہک رہے ہو جہالت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔یہ بات تو جہالت کی ساری حدیں پھلانگ چکی ہے۔مجھے تو اس بات پر جب شدت سے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو جہاں غصہ بھی آتا ہے وہاں دکھ بھی بے انتہا ہوتا ہے، اور جہالت کی حد ایسی ہے کہ بعض دفعہ ہنسی بھی آتی ہے کہ انہیں ہو کیا گیا ہے؟ ان کی عقلیں کہاں بھٹک رہی ہیں؟ کیا گھاس چر رہی ہیں؟ پتہ ہی نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔اپنے دین پر، سید ولد آدم پر کیا ظلم کر رہے ہیں؟ اور زمانے کے سامنے کیا تصویر پیش کر رہے ہیں؟ مجھے تو اس پر وہ لطیفہ یاد آ جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ انگلینڈ میں کوئی نیوڈز (Nude's) کلب تھی۔( نیوڈ ز کلب کا رواج آجکل عام ہے۔بعض لوگ ایک کلب میں سارے ننگے ہوتے ہیں) انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو دعوت دی کہ ایک دن ہمارے ساتھ گزار ہیں۔وہ صاحب سوٹڈ بوٹڈ پوری طرح تیار ہو کر تشریف لائے۔لنج پر یہ منظر دیکھا کہ سارے ننگے بیٹھے ہوئے تھے اور وہ