اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 133
133 اس تمام اجماع کے بعد (نعوذ بالله من ذالك) ان علماء کے نزدیک یہ کیسا واقعہ ہو گیا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک اپنا موقف تبدیل فرمالیا اور انبیاء کے پاک زمرے سے ہٹ کر نعوذ باللہ من ذالک ان دشمنوں کے زمرے میں جا کھڑے ہوئے۔میرا تصور اس خیال پر لعنت ڈالتا ہے۔حیرت ہے کہ آج کے علماء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرتے ہوئے یہ ادعا کیسے کر سکتے ہیں؟ کیوں ان کو حیا نہیں آتی؟ کیوں شرم سے زمین میں گڑ نہیں جاتے؟ کیسے جرات ہوتی ہے ان کی زبانوں کو کہ ایسا دعوی کریں جبکہ تمام انبیاء بالا جماع مسلسل ایک دوسرے کے بعد، بلا استثناء مرتد کی سزا قتل کے عقیدے کو رد کرتے رہے اور خدا ہر مرتبہ یہ گواہی دیتا رہا کہ یہ رسول سچے تھے جو کہتے تھے کہ دین میں کوئی جبر نہیں اور دین میں جبر کو راہ دینے اور ارتداد کی سزا تجویز کرنے والے سارے جھوٹے اور لعنتی تھے اور سب کو خدا نے مٹا دیا اور ملیا میٹ کر دیا ؟ چھوڑ و باقی دلیلوں کو اتنا تو سوچو کہ ہمارے آقا اور مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم کس زمرے میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہو۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا، ہرگز خدا تمہیں اس کی اجازت نہیں دے گا۔یہ عقیدہ مرنے کا عقیدہ ہے اور مرکز رہے گا۔اس راہ میں احمدیوں کو جان دینی پڑے تو وہ جان دیں گے لیکن محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے ہوئے داغوں کو دھوئیں گے خواہ اپنے خون سے ان داغوں کو دھونا پڑے۔