اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 120

120 وہ لکھتے ہیں: ” جس علاقہ میں اسلامی انقلاب رونما ہو وہاں کی مسلمان آبادی کو نوٹس دیا جائے کہ جو لوگ اسلام سے اعتقاد او عملا منحرف ہو چکے ہیں اور منحرف ہی رہنا چاہتے ہیں وہ تاریخ اعلان سے ایک سال کے اندر اندر اپنے غیر مسلم ہونے کا با قاعدہ اظہار کر کے ہمارے نظامِ اجتماعی سے باہر نکل جائیں۔اس مدت کے بعد اُن سب لوگوں کو جو مسلمانوں کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں مسلمان سمجھا جائے گا۔تمام قوانین اسلامی ان پر نافذ کئے جائیں گے۔فرائض و واجبات دینی کے التزام پر انہیں مجبور کیا جائے گا۔اور پھر جو کوئی دائرہ اسلام سے باہر قدم رکھے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں۔صفحہ ۸۰) اس جگہ کوئی مودودی صاحب کے ان الفاظ سے دھو کہ نہ کھائے کہ ان سب لوگوں کو مسلمانوں کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں مسلمان سمجھا جائے گا کیونکہ مودودی۔صاحب اس سے پہلے پڑھے جانے والے ایک حوالہ میں فتویٰ دے چکے ہیں کہ ان مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں ۱۰۰۰ میں سے ۹۹۹ بھی حقیقی مسلمان نہیں۔گویا اس کا معنی یہ ہوا کہ یہ مسلمان پیدائشی کا فر ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت صحیحہ یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔یہ ہیں ان علماء کے ارادے اور یہ ہے ان کے اسلام کا تصور اور یہ ہے ان کے نزدیک آزادی ضمیر کا تصور۔