اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 121

121 ارتداد اور تاریخ انبیاء اب میں آپ کے سامنے ایک آخری بات جو دلچسپ بھی ہے اور اس مضمون پر حرف آخر کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور ایک پہلو سے انتہائی دردناک بھی ہے پیش کرتا ہوں۔قرآن کریم نے ایک بڑی ہی وسیع اور بہت مستند اور نہایت مبسوط تاریخ انبیاء پیش کی ہے۔حضرت آدم سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک انبیاء علیہم السلام کے کیا عقائد رہے؟ ان کے کیا دستور رہے؟ ان کے ماننے والوں کے کیا خلق تھے؟ کیا اطوار تھے؟ اور اس کے مقابل پر ان کے دشمنوں کے کیا عقائد اور اطوار تھے ؟ ان کے دعوے کیا تھے؟ ان کے استدلال کیا تھے؟ نہایت مبسوط اور مسلسل تاریخ کے رنگ میں قرآن کریم نے ان سب باتوں کو محفوظ فرمایا ہے۔حضرت نوح سے لے کر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک کے انبیاء کا ذکر اور ان کے مخالفین کا ذکر اور ان کے درمیان چلنے والی بحث کا ذکر قرآن کریم نے محفوظ کیا ہے۔دشمنان انبیاء کا عقیدہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ بلا استثناء تمام منکرین انبیاء کا یہ عقیدہ تھا کہ جو ان کے مذہب سے پھر جائے یعنی مرتد ہو جائے اسے ضرور بھیانک سزائیں ملنی چاہئیں۔پس اس مسئلہ پر اگر کوئی اجماع ہے تو مخالفین انبیاء کا اجماع ہے نہ انبیا ء اور ان کے ماننے والوں کا۔قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کے ساتھ تھا اور ان