اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 119

119 ہو جائیں تو وہ ان لوگوں کو جنہوں نے دیوبندیوں کو کافر قرار دیا ہے، دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں گے۔اور اگر وہ لوگ مرتد کی تعریف میں آئیں گے یعنی انہوں نے اپنے مذہبی عقائد ورثے میں حاصل نہ کئے ہوں گے بلکہ خود اپنا عقیدہ بدل لیا ہو گا تو مفتی صاحب ان کوموت کی سزا دے دیں گئے۔مودودی کا تشدد رپورٹ تحقیقاتی عدالت ۱۹۵۳ ء صفحه ۲۳۶) مولوی مودودی صاحب کا ایک اور دلچسپ حوالہ ہے جس میں وہ اس بات سے اختلاف رکھتے ہیں کہ سارے پیدائشی مسلمان ، مسلمان ہی شمار ہوں گے۔ان کے نزدیک مسلمانوں کے گھر پیدا ہونے والے بھی فی الحقیقت مرتد ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم اسلامی حکومت میں ان سب کو بطور مسلمان قبول نہیں کریں گے بلکہ ایک سال کا نوٹس دیں گے کہ عملاً تو تم مرتد ہو ہی چکے ہو اس لئے اب ہم تمہیں کھلی چھٹی دیتے ہیں کہ ایک سال کے اندر اندر خود اپنے منہ سے اسلام کی صداقت کا انکار کرو اور کہو کہ اسلام جھوٹا مذہب ہے۔اگر تم ایسا کرو گے تو ہم تمہیں معاف کر دیں گے اور جان بخشی کر دیں گے۔( بس ایک حسرت رہ گئی ہے کہ مسلمانوں سے اسلام کو جھوٹا سن لیں) اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ ایک سال گزرنے کے بعد اگر تمہاری یہی حالت رہی یعنی جسے ہم ارتداد سمجھتے ہیں تو ہم قتل وغارت کریں گے اور تم سب کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں گے اور بصورت دیگر جبر ا تم سے اس اسلام پر عمل کروائیں گے جسے ہم اسلام سمجھتے ہیں۔