اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 118

118 ایک اہم اقتباس ہیں تحقیقاتی عدالت کا ایک اور اقتباس پیش کر کے پھر میں اس مضمون کے آخری حصے کی طرف آتا ہوں۔تحقیقاتی عدالت لکھتی ہے کہ عدالت تسلیم کرتی ہے کہ : اسلامی مملکت میں ارتداد کی سزا موت ہے۔اس پر علماء عملاً متفق الرائے رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء صفحه ۲۳۶) یعنی وہاں اس وقت عدالت میں جو علماء پیش ہوئے تھے وہ متفق الرائے تھے۔عدالت ان علماء کی بات کر رہی ہے۔مگر بہت سے بڑے بڑے علماء جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے وہ پاکستان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور دیگر عرب ممالک سے بھی تو وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اس لئے عدالت ان کا ذکر نہیں کرتی۔اس زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے بھی اس نظریہ کے خلاف وہ جہاد کر چکے ہیں۔کتابیں لکھ چکے ہیں۔اس لئے عدالت کی ہرگز یہ مراد نہیں کہ سارے علماء اس نظریہ پر متفق تھے بلکہ صرف وہ جو عدالت میں ان کے سامنے پیش ہوئے تھے۔عدالت مھتی ہے۔اگر مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری یا مرزا رضا احمد خاں بریلوی ( مراد احمد رضا خاں بریلوی ہیں۔ناقل ) یا ان بے شمار علماء میں سے کوئی صاحب ( جو فتوے (EX-D-E14) کے خوبصورت درخت کے ہر پتے پر مرقوم دکھائے گئے ہیں) ایسی اسلامی مملکت کے رئیس بن جائیں تو یہی انجام ( یعنی قتل۔ناقل ) دیوبندیوں اور وہابیوں کا ہو گا جن میں مولانا محمد شفیع دیو بندی ممبر بورڈ تعلیمات اسلامی ملحقہ دستور ساز اسمبلی پاکستان اور مولانا داؤد غزنوی بھی شامل ہیں۔اور اگر مولانا محمد شفیع دیو بندی رئیس مملکت مقرر