اسلام کے خلاف ہولناک سازش، ذمّہ دار کون؟ — Page 8
٨ 66 CIA خدمت میں اللہ جل شانہ کی قسم دے کر التجا کی جائے کہ وہ میرے بارے میں اور میرے دعوے کے بارہ میں دعا اور تفریح اور استخارہ سے جناب الہی میں توجہ کریں تبلیغ رسالت جلده صفحه ۱۴۴ - ۱۵۱ حضرت مرزا صاحب نے ایسے عیسائی پادریوں یا آریہ پنڈتوں کے خلاف بعض جگہ سخت زبان استعمال فرمائی ہے جو محبوب سبحانی اور دل و جان سے پیارے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علہ وسلم کے خلاف نہائت دل آزار بدزبانی اور خش کلامی سے باز نہیں آتے تھے اور اسی طرح اُن علماء کے خلاف بھی قدر سے مسخت کلمات استعمال فرائے ہیں جنہوں نے آپ کو نہائت گندی گالیاں دینے میں پہل کی اور باربار سمجھانے کے باوجود باز نہیں آئے اور (معاذ اللہ آپ کو رقبال اور زندیق اور مزید کہا اور فیض ایسے غلیظ القابات سے پکارا کہ مارا قلم نہیں گھنا گوارا نہیں کرتا حضرت مرزا صاحب کے بار بار سمجھانے کے باوجود وہ مخالفین نہ اس وقت باز آئے اور نہ آج بانہ آرہے ہیں اور حضرت مرزا صاحب کو نہائت فحش اور بازاری گالیاں دینا ہی عین اسلام سمجھتے ہیں۔اس سے بڑھ کر مسلم یہ کہ مسلمان عوام کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ حضور صلی الہ علیہا کو گالیاں دینے والے دشمنوں کے خلاف جو سخت زبان آپ نے استعمال فرمائی وہ تمام باتیں نعوذ باللہ آپ نے مسلمان عوام و خواص کے متعلق کہیں۔پس یہ عذر رکھے کر جو منہ میں آئے حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت کے خلاف زہر اگلتے چلے جاتے ہیں اور ذرا بھی خدا کا خوف نہیں کھاتے۔حضرت مرزا صاحب کی تصنیفات جو اسی سے زائد کتب درسائل پر مشتمل ہیں اُن میں سے چند فقرے ہیں جو ان علماء کے خلاف آپ نے استعمال کئے جو خود پہلے دشنام طرازی میں حد سے بڑھ گئے تھے۔کہیں آپ کا یہ فعل اس قرآنی تعلیم کے مطابق تھا کہ لا یحب الله الجهر بالسوء مِنَ القَوْلِ الَّا مَنْ تُلِيمُ (النساء ۱۹۹) یعنی اللہ تعالی یہ سند نہیں کرتاکہ کھلم کھلا سخت کلامی کی جائے سوائے ایسے شخص کے لئے کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو۔یعنی مظلوم اگر جوابی کاروائی کے طور پر سخت کلامی کرے تو خدا تعالی کے نزدیک یہ بری بات نہیں۔پس ہم تمام دنیا کے علماء کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ ثابت کر کے دیکھا نہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے اول : سخت کلامی میں پہل کی ہو اور دوئم : مولویوں نے جو گالیاں آپ کو دیں اور آج تک دیتے چلے جاتے ہیں اُس کا ہزارواں حصہ سخت کلامی بھی آپ نے جواب میں کی ہو۔قیامت تک وہ ہرگز یہ ثابت نہیں رسکتے۔اگر ذراسی بھی سچائی اُن میں ہے تو اس چیلنج کو قبول کر دکھائیں۔جہاں تک مسلمان بشرنا ، اور عوام الناس کا تعلق ہے آپ نے کھلے لفظوں میں تحریر فرمایا۔ہے کہ وہ ہرگز جوابی سختی میں میرے مخاطب نہیں بلکہ روئے سخن صرف حد سے بڑھے ہوئے شریروں کی طرف ہے۔فرمایا لَيْسَ كَلا منا هذَا فِي اَخَيَارِهِمْ بَلْ فِي أَشْرَارِهِمْ : الهُدى وَ التَّبْصِرَةٌ لِمَنْ يرى ملا) ترجمہ : ہمارا یہ کلام محض شریر علماء کے متعلق ہے۔ہرگز نیک علامہ کے متعلق نہیں ہے۔پھر فرمایا