اسلام کے خلاف ہولناک سازش، ذمّہ دار کون؟

by Other Authors

Page 9 of 16

اسلام کے خلاف ہولناک سازش، ذمّہ دار کون؟ — Page 9

نعوذ باللهِ مِنْ هَتَدِ العُلَمَاءِ الصَّالِحِينَ وَقَدْحِ الشَّرَفَاءِ المُهَذِبِيْنَ سَوَاءًا كَانُوا مِنَ المُسْلِمِينَ وَالمَسِيحِينَ أو الآرية - " الله النُّور ملا ) ترجمہ در ہم صالح علماء کی ھنگ سے اور مہذب شرفاء کی شان گرانے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں خواہ وہ مسلمانوں میں سے ہوں یا عیسائیوں میں سے یا آریوں میں سے۔مسلمانوں کے متعلق تو آپ کے جذبات یہ تھے کہ۔اسے دل تو نیز خاطر اینان نگاه دار کا خر کنند دعوے محبت پیمبرم در رامین نارسی) کہ اسے دل تو ان لوگوں کا لحاظ رکھ کیونکہ آخر میرے پیغمبر کی محبت کا دعوے کرتے ہیں۔نیز امیلی آپ تو نے یہ تعلیم دی کہ گالیاں سُن کے دعا دو پا کے رکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکو اور ان مسلمانوں کے بارہ میں جو مولویوں کی باتوں میں اگر لاعلمی میں آپ کو گالیاں دیتے رہے آپ کے دلی جذبات یہ تھے اور ہمارے بھی یہی ہیں کہ گالیاں سُن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے پس ار معاند علما و اب بھی جھوٹی الزام تراشیوں اور شر انگیزیوں سے باز نہیں آتے تو ہم اُن کا معاط احکم الحاکمین خدا کے سپرد کرتے ہیں جس کے قبضہ قدرت میں ان کی بھی جان ہے اور ہاری بھی۔ہم تو کمزور کر اور عاجز اور مظلوم انسان میں مگر ہما را خدا تو کمزور اور عاجز نہیں فسوس کہ یہ سب باتیں جانے کے باوجود اس زمانے کے علما و مسلمان عوام کو بھڑکانے او شتل کرنے کیلئے یہ ظالمانہ الزام حضرت مرزا صاحب پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگا کر کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو حرامزاده کہا ہے مسلمانوں کو اکساتے ہیں کہ اس جرم میں حضرت مرزا صاحب کو نیچا مانے والوں کو قتل کر دور اُن کے گھروں کو آگ لگا دو۔ان کی عورتوں اور بچوں کو ذبح کر دو اور اموال لوٹ لو اور مولویوں کی یہ باتیں سن کر کسی کو بھی خیال نہیں آتا کر گر یہ الزام جو سراسر جھوٹا الزام ہے استا بھی ہوتو کیا اسلام میتی تعلیم دیتا ہے کہ جو تمہیں گالی ہے اُس کے مانے والوں سے بھی زندہ رکھنے کا حق چھین تو اور اُن کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم کر دو۔اگر یہی اسلامی تعلیم ہے تو اُن بدگو آریوں اور عیسائی معاندین اسلام کے بارہ میں وہ مولوی کیا فتوای دیتے ہیں جنہوں نے ہمارے آقا و مولی بستید ولد آدم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایسی ناپاک زبان استعمال کی ہے اور ایسی محش گالیاں دی ہیں اور اتنے گیند سے الزام لگائے ہیں کہ ان کو پڑھ کر غیرت سے انسان کا خون کھولنے لگتا ہے اور اس زندگی سے نفرت ہو جاتی ہے۔ایسے لیڈروں کے ہم من