اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 290 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 290

۲۹۰ اگر ایک میت والدہ ، بیٹی ، ایک بھائی اور بہن وارث چھوڑے تو اس کے حصے یہ ہوں گے۔والده = ١/٦، بیٹی ۱/۲ : 1/9 = بھائی کا حصہ ۲/۹ ، بہن کا حصہ = ۱/۹ = اولی رجل ذکر کے تحت چاہئے تو یہ تھا کہ ذوی الفروض کو دینے کے بعد باقی کا ۱/۳ بھائی کو ہی دے دیا جاتا اور بہن محروم رہتی۔ان مثالوں یا ان جیسی اور بہت سی مثالوں سے یہ ظاہر ہے کہ اولی رجل ذکر کو اُس صورت میں محوظ رکھا جاتا ہے جب کہ مختلف درجات کے عصبات موجود ہوں لیکن اگر ہی درجہ میں اپنی قوت قرابت کے لحاظ سے مختلف قسمیں ہوں تو ان میں واسطہ کا بھی خیال رکھا جاتا ہے مثلاً عصبات میں اگر بیٹا اور بھائی موجود ہوں تو بھائی دوسرے درجہ کا عصبہ ہے اور بیٹا پہلے درجہ کا اس لئے بھائی اس حدیث کی رُو سے محروم ہو گا۔لیکن بیٹا اور پوتا ایک ہی درجہ کے وارث ہوں گے گو اپنی قوت قرابت کے لحاظ سے وہ مختلف ہیں۔اب اگر بیٹا نہ ہو تو پوتا اس کا قائم مقام ہو کر وارث ہو گا۔اس لئے یہ حدیث یتیم پوتے کی میراث میں روک نہیں۔الاقرب فالاقرب کا اصول جو کہ فقہا نے قرآن اور حدیث کی تعلیم کی روشنی میں بنایا ہے۔یتیم پوتے کو اپنے دادے کے ترکہ سے میراث حاصل کرنے سے نہیں روکتا۔کیونکہ فقہا نے حجب وحرماں کے لئے دو اصول وضع کئے ہیں۔الف- كُلُّ مَنْ يُدْلِى إِلَى الْمَيَّتِ بِشَخْصٍ لَايرِتُ مَعَ وَجُوْدِ ذَالِكَ الشَّخص (سراجیہ) یعنی ہر وہ شخص جو کسی واسطے سے میت سے قرابت رکھتا ہو وہ واسطہ کے وارث ہوتے ہوئے وارث نہیں ہوسکتا۔الاقرب فا الاقرب (سراجیه) یعنی قریب تر بعید تر کو محروم کر دے گا۔اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ پوتا دادے سے کس واسطہ سے تعلق ہے یا کسی اور قریبی تعلق سے۔