اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 289 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 289

۲۸۹ فَمَابَقَى فَهُوَ لَا وَلَى رَجُلٍ ذَكَرٌ۔عصبات کے مختلف درجات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔یعنی پہلے درجہ کے عصبات ( میت کا جز ) جو کہ مرد ہو وارث ہو گا۔اس کی غیر موجودگی میں میت کے جز کا جز وارث ہو گا۔اگر میت کے جز میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر دوسرے درجہ کے عصبات یعنی میت کے باپ کے جز وارث ہوں گے۔اسی طرح سے یہ سلسلہ چلتا ہے بہر حال اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اگر واسطہ قائم نہ رہے تو وارث جو بالواسطہ حقدار تھا۔محروم ہو جائے گا۔پھر اگر اسے لفظی رنگ میں ہی چسپاں کرنا چاہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ فقہا نے بہت سے وراثت کے مسائل کو حل کرتے وقت اس کو پیش نظر نہیں رکھا مثلاً اگر ایک میت دو بیٹیاں ، ایک بہن اور ایک بھتیجا چھوڑے تو ان کے حصے یہ ہوں گے۔دو بیٹیوں کا حصہ = ۲/۳ ہمشیرہ بھتیجا +== -1 = = محروم اب اس میں اولیٰ رجل ذکر کے تحت جو کچھ ذوی الفروض ( بیٹیوں ) کو دینے کے بعد بچے وہ یتیم بھتیجے کو ملنا چاہئے تھا، لیکن وہ محروم ہو گیا اور ہمشیرہ کو بقیہ حصہ مل گیا۔مثال نمبر ۲: ایک میت نے دو بیٹیاں، دو پوتیاں، ایک پڑپوتی اور ایک پڑپوتا وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ یہ ہوگا۔دو بیٹیاں باقی ۲/۳ = 1/4 = بطور ذوی الفروض دونوں پوتیاں، ایک پڑپوتی اور ایک پڑپوتا بطور عصبہ ۱:۴ سے حاصل کریں گی۔اس لئے حصے یہ ہوں گے۔، ، ۱۵ 6 ۱۵ اولی رجل ذکر کے تحت چاہئے تو یہ تھا کہ باقی ۱/۳ صرف پڑپوتے کو ہی دے دیا جا تا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔مثال نمبر ۳ :