اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 291 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 291

۲۹۱ قریبی تعلق سے ظاہر ہے کہ پوتا اپنے باپ کی وساطت سے دادا کا رشتہ دار ہے۔اس لئے پہلا اصول اس پر منطبق ہوگا۔یعنی واسطہ کے ہوتے ہوئے پوتا وارث نہیں ہو گا۔لیکن جب یہ واسطہ نہ رہے تو پھر یہ اس کا قائم مقام ہو کر اپنا حصہ حاصل کرے گا۔دوسرا اصول الاقرب فالاقرب (اولی رجل ذکر کی تفسیر سے جبکہ مختلف درجات کے عصبات موجود ہوں تو اس وقت سب سے زیادہ نزدیکی عصبہ باقی ترکہ کا حقدار ہوگا اور بعید محروم ہو گا۔پہلا اصول یعنی كل من يدني۔مع وجود ذلك الشخص حضرت زید بن ثابت کے اس قول کی تشریح ہے۔لَا يَرِثُ وَلَدُ الابْنِ مَعَ الْإِبْنِ 66 د یعنی بیٹے کے ساتھ بیٹے کا بیٹا وارث نہیں ہوتا۔“ نیز اس قول سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیٹے کے بعد بیٹے کا بیٹا وارث ہوتا ہے۔یعنی پوتا اپنے باپ کا قائم مقام ہو کر حصہ حاصل کر سکتا ہے اس قول سے تو پوتے ( یتیم ) کی میراث اپنے دادا کے ترکہ میں ثابت ہوتی ہے۔⑤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا کوئی بھی ایسا فیصلہ تاریخ سے نہیں ملتا جس سے یہ معلوم ہو کہ ان بزرگوں نے یتیم پوتے کو اپنے موجود چا کی وجہ سے ترکہ سے محروم قرار دیا ہو۔⑥ یتیم پوتوں کو دادا کے ترکہ سے میراث نہ دینے کی وجہ سے خاندانی لحاظ سے بغض، حسد قتل تک کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اچھا بھلا اتفاق و اتحاد سے رہنے والا خاندان دادا کی وفات کے بعد خاندانی جھگڑوں کا شکار ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر ایک آدمی کے دو بیٹے ہیں بڑے بیٹے سے اس کا ایک بیٹا ہے اور چھوٹے بیٹے سے تین بیٹے ہیں اس آدمی کا چھوٹا