اسلام کا وراثتی نظام — Page 288
۲۸۸ تک اس اصل کا تعلق ہے تمام علماء نے اس کو تسلیم کیا ہے۔چنانچہ ابن رشید اپنی کتاب برایۃ المجتہد جلد ۲ صفحہ ۲۸۳ پر لکھتے ہیں۔وَلَدُ الْوَلَدِ وَلَدٌ مِنْ طَرِيقِ الْمَعْنَى وَعَلَى هَذا أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ بَنِى الْبِنِيْنَ يَقُومُونَ مَقَامَ الْبَنِينَ عِندَ فَقَدِ الْبَنِيْنَ يَرِثُونَ كَمَا يَرِثُونَ وَيَحْجُبُوانَ كَمَا يَحْجُبُونَ۔یعنی پوتا معنوی لحاظ سے بیٹا ہی ہے اسی لئے علماء نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ اگر بیٹے نہ ہوں تو پوتے ان کے قائم مقام ہوں گے۔وہ اسی طرح وارث بنیں گے جس طرح بیٹے وارث بنتے ہیں اور اسی طرح وہ دوسرے ورثاء کی محرومی کا باعث ہوں گے جس طرح کہ ان کی محرومی کا باعث بنتے ہیں۔حجب کے اسی اصول کے مطابق جب کوئی متوفی ایک زوجہ والدہ اور پوتا اپنے وارث چھوڑے تو پوتے کو بمنزلہ بیٹا تصور کر کے یعنی ولد کے مفہوم میں شامل کر کے زوجہ کو ۱/۸ حصہ اور والدہ کو ١/۶ حصہ دیا جاتا ہے۔اسی طرح سے اور بہت سی مثالیں ہیں جہاں پوتے کو بیٹے کی عدم موجودگی میں بیٹے کا قائم مقام تصور کیا گیا ہے اس لئے یتیم ہونے کی صورت میں اسے اس کے باپ کا قائم مقام تصور کرنے میں ہم حق بجانب ہیں۔مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت یعنی اہل تشیع بعض حالات میں یتیم پوتے کو ا۔والد کا قائم مقام تصور کرتی ہے اور اسے دادا کے ترکہ میں سے حصہ دلاتی ہے۔اگر یہ اعتراض ہو کہ پھر اسی قاعدے کی رو سے نوا سے بھی (جن کی والدہ فوت ہو جائے ) اپنے نانا کے ترکہ کے وارث ہوں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں اولاد باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے نہ کہ ماں کی طرف یہاں لفظ ولد پر بحث ہے نواسے صلبی اور نسبی لحاظ سے نانا کی نرینہ اولا د اور صلبی اولاد نہیں سمجھے جا سکتے۔حضرت ابن عباس سے مروی حدیث کے یہ الفاظ