اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 247 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 247

۲۴۷ ٢٣/٣٦ = بھائی کا حصہ گویا اگر جائداد کے ۳۶ سہام کئے جائیں تو ۱۳ زوجہ کے اور ۲۳ سہام بھائی کے ہوں گے۔مثال نمبر ے : ایک میت نے دو بیویاں اور ایک لڑکی وارث چھوڑے۔قبل تقسیم ترک ایک بیوی جس نے اپنے سابقہ شوہر سے لڑکی کا ایک بیٹا چھوڑا۔فوت ہوگئی۔مابعد دوسری بیوی (جس کے بطن سے میت کی ایک لڑکی ہے ) فوت ہو گئی ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔ا۔دو بیویوں کا حصہ = ۱/۸ ایک بیوی کا حصہ = ۱/۱۶ لڑکی کا حصہ / ۱/۲ بطور ذوی الفروض کے ۳/۸ بطور رڈ کے ) - پہلی متوفیہ بیوی کا حصہ قابل تقسیم ۱/۱۶ ہے اور اس کا وارث صرف اس کے سابقہ شوہر کی بیٹی کا بیٹا یعنی اس کا نواسا ہے۔اس لئے یہ ۱/۱۶ حصہ اس نو ا سے کو مل جائے گا۔۔دوسری متوفیہ بیوی کا حصہ قابل تقسیم ۱/۱۶ ہے اور اس کی وارث صرف ایک بیٹی ہے جو یہ ۱/۱۲ حصہ حاصل کر لے گی۔(۳۲/ ۱ بطور ذوی الفروض اور ۳۲/ البطور رڈ کے ) آخری طور پر حصے یہ ہوں گے۔بیٹی کا حصہ زوجہ کے نواسہ کا حصہ = 1/14 = = + + گویا جائداد کے ۱۶ سہام ہوں گے جن میں سے ۱۵ میت کی بیٹی کو اور ایک سہم زوجہ کے نواسے کو ملے گا۔مثال نمبر ۸ : ایک میت کی دو بیویاں ، والدہ اور بیٹا وارث ہیں، قبل تقسیم ترکہ والدہ فوت ہوگئی ما بعدلڑکے کی والدہ بھی فوت ہو گئی ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔ابتدائی تقسیم : 1/17 = ا۔= دو بیویوں کا حصہ ۱/۸ ہر ایک بیوی کا حصہ والدہ کا حصہ 1/4 =