اسلام کا وراثتی نظام — Page 246
۲۴۶ ملیں گے۔مثال نمبر ۶ : ایک میت نے زوجہ، والدہ ، بیٹا اور بھائی وارث چھوڑے قبل تقسیم ترکہ بیٹا فوت ہو گیا۔پھر والدہ فوت ہوگئی ہر ایک کے حصے بتاؤ۔میت کے ورثاء : والدہ ، زوجہ اور بیٹا ہیں ( بھائی محروم ہے کیونکہ بیٹا موجود ہے ) 1/7 = ابتدائی تقسیم : والدہ کا حصہ باقی = زوجہ کا حصہ / ۱ - ( + ) = 1- ۳۴ = جو بیٹے کو ملے گا۔اور اس کی وجہ سے بھائی محروم رہے گا۔۲۔۲۴ متوفی بیٹے کا قابل تقسیم حصہ ۲۴ / ۱۷ تھا اور اس کے ورثاء اس کی والدہ ( پہلے متوفی کی زوجہ ) اور چا ( پہلے متوفی کا بھائی) تھے۔پس والدہ ( پہلے متوفی کی زوجہ ) کا حصہ = x = = اور چچا ( پہلے متوفی کے بھائی ) کا حصہ = ہے۔اس لئے اس وقت تک والدہ ( پہلے متوفی کی زوجہ ) کا حصہ ۳۴ ۷۲ ۱۳ = = 1 + + zr 1/4 ۳۴۷۲ = = = دادی ( پہلے متوفی کی والدہ ) کا حصہ اور چچا کا حصہ متوفیہ والدہ کا قابل تقسیم ترکہ ۱/۶ ہے اور اس کا وارث صرف اس کا اپنا بیٹا ہے یعنی پہلے متوفی کا بھائی۔۲۴ M اس لئے بھائی کا کل حصہ = + + = ۱۲۶۳۴ = = ۷۲ ۷۲ اس لئے آخری طور پر زندہ ورثاء کے کل حصے یہ ہوں گے۔۲۳ 14/F4 = زوجہ کا حصہ