اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 248 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 248

۲۴۸ باقی = - + = ۱ - ۴۳ = جو بیٹے کو مل جائے گا۔پہلی متوفیہ یعنی متوفی کی والدہ کا حصہ قابل تقسیم ۱/۶ ہے اور وارث صرف اس کا پوتا ( میت کا بیٹا ) جو کہ بطور عصبہ تمام کا تمام تر کہ (۱/۶حصہ) حاصل کرے گا۔۲۔۱۷ ۲۴ ۲۴ اس لئے اس وقت تک میت کے بیٹے کا حصہ = + + = بن جائے گا۔متوفی کی دوسری متوفیہ بیوی (مادر فرزند) کا حصہ قابل تقسیم ۱/۱۶ ہے اور وارث صرف بیٹا ، اس لئے یہ حصہ بھی بیٹے کو مل جائے گا۔لہذا بیٹے کا کل حصہ = + + = ۳۴۲ = ۲۴ اس لئے آخری طور پر کل حصے یہ ہوں گے۔۴۸ زوجہ ( جو بقید حیات ہے اس کا حصہ = ١/١٦ بیٹے کا حصہ = ۴۵ ۴۸ ۴۵ /۴۸ یعنی اگر جائداد کے ۴۸ سہام کئے جائیں تو تین سہام بیوی کے اور ۴۵ سہام بیٹے کے ہوں گے۔مثال نمبر ۹ : ایک میت نے زوجہ، دو بیٹے اور چار بیٹیاں وارث چھوڑے قبل تقسیم تر کہ ایک بیٹا تین بیٹے چھوڑ کر فوت ہو گیا۔ہر ایک کے حصے بتاؤ۔ابتدائی تقسیم زوجہ کا حصہ : باقی ١/٨ = 1 = یہ ۷۸ دو بیٹوں اور چار بیٹیوں میں ۲: اسے تقسیم ہو گا۔اس لئے ہر بیٹے کا حصہ اور ہر بیٹی کا حصہ = = ㅊ = متوفی بیٹے کا قابل تقسیم حصہ ۷/۳۲ ہے اور اس کے وارث اس کے تین بیٹے اور والده (زوجہ میت اول ) ہیں۔اور بھائی اور بہنیں محروم ہوں گی۔کیونکہ اولا دموجود ہے۔