اسلام کا اقتصادی نظام — Page 44
اسلام کا اقتصادی : الْغُرُور یاد رکھو! دنیا کی زندگی میں جو لوگ روپیہ کمانے کی کوشش کرتے ہیں اُن کی اس کوشش اور جدو جہد کے کچھ محرکات ہوتے ہیں جن کی بناء پر وہ ایسی کوشش کرتے ہیں۔(۱) پہلی وجہ تو لعب ہے۔اُن کے دلوں میں کھیل کود کی خواہش ہوتی ہے اور یہ کھیل کود کی خواہش اُن کے لئے روپیہ کمانے کا محرک بن جاتی ہے۔لعب میں جوئے بازی، سٹہ بازی اور گھوڑ دوڑ وغیرہ سب شامل ہیں۔انسان چاہتا ہے کہ میرے پاس روپیہ ہو اور میں جوا کھیلوں، روپیہ ہو اور میں سٹہ بازی کروں، روپیہ ہو اور میں گھوڑ دوڑ میں حصہ لیا کروں۔یہ کھیل کود کی خواہش اُس کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح روپیہ جمع کر کے اپنی اس خواہش کو پورا کرے۔(۲) دوسری وجہ لھو کی بتاتا ہے۔لوگ اگر روپیہ کماتے ہیں تو اس کی ایک وجہ کھو بھی ہوتی ہے۔یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے پاس اتنی دولت ہو کہ انہیں کوئی کام نہ کرنا پڑے سارا دن شست اور بریکار بیٹھے رہیں یا تاش، گنجفہ اور شراب وغیرہ میں اپنا وقت گزار دیں۔یہ چیز بھی ایسی ہے جولوگوں کے لئے مال جمع کرنے کا محرک بن جاتی ہے۔(۳) تیسری وجہ جلب زر کی خواہش کی زِينَةٌ بتائی گئی ہے۔یعنی انسان چاہتا ہے میرے کپڑے عمدہ ہوں ، لباس عمدہ ہو ، سواریاں عمدہ ہوں اور عمدہ عمدہ کھانے مجھے حاصل ہوں۔(۴) چوتھا محرک روپیہ کمانے کا تَفَاخُرم بینَكُمْ بتایا گیا ہے۔یعنی بعض لوگ اس بات کے لئے بھی روپیہ جمع کرتے ہیں کہ لوگوں میں اُن کی عزت بڑھے، وہ بڑے مالدار مشہور ہوں اور لوگوں سے کہہ سکیں کہ تم جانتے نہیں ہم کتنے امیر ہیں۔میں نے دیکھا ہے یہ مرض اتنا بڑھا ہوا ہے کہ ہمارے ملک میں تو بعض لوگ غلامی کے اقرار میں بھی اپنی 44