اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 43

آجائے جو اقتصادی قانون کے لحاظ سے بھی درست ہو، اخلاقی قانون کے لحاظ سے بھی درست ہو اور مذہبی قانون کے لحاظ سے بھی درست ہو۔اس تمہید کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اوپر کے دو اصولوں کے ماتحت اسلام نے ہر فرد کو تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ میں آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی ہے مگر اس کی آزادی کو ایسی حد بندیوں میں رکھ دیا ہے جو اُس کی جائز بلند پروازی کو روکیں بھی نہیں اور اُس کی انفرادیت کو کچلیں بھی نہیں اور پھر نا جائز آزادی کے خطرات سے بھی اُسے محفوظ کر دیں۔سو یا درکھنا چاہئے کہ اقتصادی مقابلے جو دنیا میں ہوتے ہیں اُن میں مختلف قسم کی خرابیوں کے پیدا ہونے اور ظلم و بیداد کا دروازہ کھلنے کی وجہ چند خواہشات نفسانی ہوتی ہیں جو نفس انسانی میں پیدا ہوتی ہیں۔اُن میں سے بعض خواہشات ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ روپیہ سمیٹنا چاہتا ہے۔دنیا کی حالت خواہ کتنی ہی خراب ہو، غریب لوگ فاقہ سے مر رہے ہوں، بیوائیں روٹی کیلئے تڑپ رہی ہوں، یتیم کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہوں وہ یہی چاہتا ہے کہ میرے پاس زیادہ سے زیادہ دولت جمع ہو جائے۔اس ظلم اور تعدی کے کئی محرکات ہوتے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ کون سے محرکات ہیں جو اس رُوح کے پس پردہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔دولت کمانے کے محرکات اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهُوَ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرُ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانُ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ 43