اسلام کا اقتصادی نظام — Page 45
بڑائی سمجھتے ہیں۔وہ باتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں آپ نہیں جانتے میں کون ہوں۔میں انگریزی حکومت کا اتنا ٹیکس ادا کرنے والا ہوں۔گو یا بجائے اُن کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے کے کہ میں دوسری قوم کا ماتحت ہوں اور اُس کو ٹیکس ادا کرتا ہوں وہ اُسے فخریہ طور پر پیش کرتے ہیں کہ میں اتنا ٹیکس گورنمنٹ کو ادا کرتا ہوں بلکہ میں نے تو اس سے بھی زیادہ دیکھا ہے کہ بعض ہندوستانی اس پر بھی فخر کرتے ہیں کہ ”میں بڑے صاحب کا اردلی ہوں“۔پس فرماتا ہے روپیہ کمانے کا ایک محرک یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں ہم دوسروں پر فخر کر سکیں، اُن پر رعب ڈال سکیں اور اُنہیں کہہ سکیں کہ ہم اتنے مالدار ہیں۔تمہارا فرض ہے کہ ہماری باتیں مانو۔(۵) پانچواں محرک مال زیادہ کمانے کا تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ ہوتا ہے۔یعنی محض روپیہ جمع کرنے کی خواہش بھی بعض لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روپیہ سمیٹنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے پاس دوسروں سے زیادہ روپیہ جمع ہوتا جائے۔وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ہمسایہ کے پاس اگر دس لاکھ روپیہ ہے تو ہمارے پاس ایک کروڑ روپیہ ہو۔یا اُس کے پاس اگر ایک کروڑ روپیہ ہو تو ہمارے خزانہ میں دو کروڑ روپیہ ہو۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہی امور دولت کمانے کے محرک ہوتے ہیں جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں۔اسلام میں ناجائز اغراض کیلئے دولت کمانے کی ممانعت ان محرکات کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَمَثَلِ غَيْبِ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ہم ان تمام امور کو اُس بادل کی طرح قرار دیتے ہیں جو آسمان پر چھا جاتا ہے اور زمیندار سمجھتا ہے کہ اب اس 45