اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 42

آخرت کا سرمایہ اپنے لئے جمع کر لیں اور اُن کے اندر تسابق اور مقابلہ کی روح ترقی کرے۔اور حکومت کا تداخل اس لئے رکھا گیا ہے کہ امرا کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ اپنے غریب بھائیوں کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیں۔گویا جہاں تک بنی نوع انسان کو تباہی سے محفوظ رکھنے کا سوال ہے حکومت کی دخل اندازی ضروری سمجھی گئی ہے اور جہاں تک تسابق اور اُخروی زندگی کے لئے زاد جمع کرنے کا سوال ہے حریت شخصی کو قائم رکھا گیا ہے اور فردی آزادی کو کچلنے کی بجائے اس کی پوری پوری حفاظت کی گئی ہے۔پس اسلامی اقتصادیات میں فردی آزادی کی بھی پوری حفاظت کی گئی ہے تا کہ انسان طوعی خدمات کے ذریعہ سے آئندہ کی زندگی کے لئے سامان بہم پہنچا سکے اور تسابق کی رُوح ترقی پا کر ذہنی ترقی کے میدان کو ہمیشہ کیلئے وسیع کرتی چلی جائے۔اور حکومت کا دخل بھی قائم رکھا گیا ہے تاکہ فرد کی کمزوری کی وجہ سے اقتصادیات کی بنیاد ظلم، بے انصافی پر قائم نہ ہو جائے اور بنی نوع انسان کے کسی حصہ کے راستہ میں روک نہ بن جائے۔اس مضمون کے سمجھ لینے کے بعد یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ اسلام خصوصاً اور دیگر مذاہب عموماً جو بعث بعد الموت کے قائل ہیں اس مسئلہ پر خالص اقتصادی نقطۂ نگاہ سے نہیں بلکہ مذہبی، اخلاقی اور اقتصادی تین نقطہائے نگاہ سے نظر کریں گے اور ان تین اصولوں کی مشترک راہنمائی سے اس کا فیصلہ کریں گے۔اُن سے خالص اقتصادی نقطہ نگاہ سے نظر ڈالنے کی امید اُن کے مذہب میں تداخل کے برابر ہوگی جسے وہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔و شخص جو مذہب کو نہیں مانتا وہ تو بے شک صرف اقتصادی نقطۂ نگاہ سے اس مضمون کو دیکھے گا لیکن وہ شخص جو مذہب کو مانتا ہے وہ صرف یہ نہیں دیکھے گا کہ کس قسم کا اقتصادی نقطۂ نگاہ اس کے سامنے پیش کیا گیا ہے بلکہ وہ یہ بھی چاہے گا کہ اُس کے سامنے ایک ایسا طریق عمل 42