اسلام کا اقتصادی نظام — Page 41
محبت کرتا ہے، وہ اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے اور اُس سے محبت کرنے میں لذت حاصل کرتا ہے لیکن اگر وہ اپنی نیت کو بدل ڈالے اور بجائے اپنی محبت کے خدا تعالیٰ کے حکم اور اُس کی رضا اور خوشنودی کو محبت اور پیار کا موجب بنالے تو یہی چیز اس کے لئے ثواب کا موجب بن جائے گی۔روٹی اُس کے پیٹ میں اُسی طرح جائے گی جس طرح پہلے جاتی تھی ، کپڑا اُس کی بیوی کے تن پر وہی مقصد پورا کرے گا جو مقصد وہ پہلے پورا کرتا تھا مگر اس صورت میں جب وہ خدا کے لئے اُس سے محبت کرے گا، جب وہ خدا کے لئے اُس سے پیار کرے گا نہ صرف وہ اپنی بیوی کو خوش کرے گا، نہ صرف وہ اپنے آپ کو خوش کرے گا بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی ثواب کا امیدوار ہوگا کیونکہ اُس نے یہ فعل خدا کی رضا کے لئے کیا ہوگا۔(۲) دوسرا اصل اسلام کا یہ ہے کہ چونکہ اموال اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اُس نے سب مخلوق کیلئے پیدا کئے ہیں اس لئے جو حصہ اوپر کی تدبیر سے پورا نہ کیا جا سکے اُس کیلئے قانونی طور پر تدارک کی صورت پیدا کی جائے۔یعنی جو حصہ طوعی نظام سے پورا نہ ہو اور ادھورا رہ جائے اُسے قانونی طور پر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور الہی نظام کو خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔اسلامی اقتصاد کا لب لباب پس اسلامی اقتصاد نام ہے فردی آزادی اور حکومتی تداخل کے ایک مناسب اختلاط کا۔یعنی اسلام دنیا کے سامنے جو اقتصادی نظام پیش کرتا ہے اُس میں ایک حد تک حکومت کی دخل اندازی بھی رکھی گئی ہے اور ایک حد تک افراد کو بھی آزادی دی گئی ہے ان دونوں کے مناسب اختلاط کا نام اسلامی اقتصاد ہے۔فردی آزادی اس لئے رکھی گئی ہے تا کہ افراد 41