اسلام کا اقتصادی نظام — Page 130
جیسا کہ روس میں کیا جا رہا ہے۔افراد کی کمپنیوں کا مقابلہ چھوٹے ملک اور غیر منظم بڑے ملک کر سکتے تھے مگر اجتماعی حکومتی کیپٹلزم کا مقابلہ چھوٹے ملک اور بڑے( لیکن کمزور ) ملک کسی صورت میں نہیں کر سکتے۔اور اس سے پہلے بھی بڑے صناع ملک چھوٹے ملکوں پر اقتدار پیدا کر لیتے تھے لیکن انفرادی کیپٹلزم کی موجودگی میں ضروری نہ تھا کہ جو ملک چھوٹا ہواُس میں کیپٹلسٹ نہ ہوں۔چونکہ مقابلہ افراد میں تھا اس لئے باوجود ملک کے چھوٹا ہونے کے اس کے کچھ افراد بڑے ور منظم ملک کا مقابلہ کرتے رہتے تھے کیونکہ وہ بھی کیپٹلسٹ ہوتے تھے۔انگلستان نہایت منظم صنعتی ملک ہے مگر باوجود اس کے ہالینڈ بیلجیئم ، سوئٹزر لینڈ جیسے ملکوں کے بعض کیپٹلسٹ انگلستان کے کیپٹلسٹوں کا مقابلہ کر سکتے تھے کیونکہ مقابلہ انگلستان اور ہالینڈ یا انگلستان اور چم اور انگلستان اور سوئٹزرلینڈ کا نہ تھا بلکہ مقابلہ انگلستان اور ہالینڈ کے اور انگلستان اور بیلجیئم اور انگلستان اور سوئٹزرلینڈ کے دو کیپٹلسٹوں کا تھا اور اُن کے آگے نکلنے سے ملک کا دوسرا طبقہ بھی فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔یہ فرق ایسا ہی ہے جیسا کہ انگلستان او بیلجیئم کی فوجیں سامنے آئیں تو بیلجیئم مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن انگلستان کا کوئی سپاہی بیجیم کے کسی سپاہی کے مقابلہ پر آجائے تو پیجیئم کا سپاہی انگلستان کے سپاہی پر غالب آ سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ فردی کیپٹلزم بھی ایک خطرناک ٹھے ہے مگر اس کے باوجود خود اس ملک کے لوگوں اور اس کے حریف ملکوں کے لوگوں کے لئے کچھ نہ کچھ راستہ بچاؤ کا کھلا رہتا ہے لیکن حکومتی کیپٹلزم کے سامنے چھوٹے اور غیر منظم ملک بالکل نہیں ٹھہر سکتے اور ان کے بچنے کی کوئی ممکن صورت ہی باقی نہیں رہتی۔اور یہ مقابلہ ایسا ہی عبث ہو جاتا ہے جیسا کہ ایک مشین گن رکھنے والی فوج کے مقابل پرسونٹے لے کر نکلنے والی فوج عبث اور بے کار ہوتی 130)